برطانیہ میں حساس ایئربیس کے قریب کارروائی، 5 افراد گرفتار، بم ڈسپوزل ٹیم طلب
اہم پیش رفت، دہشت گردی کا شبہ، 85 گھر خالی کرا لیے گئے، تحقیقات جاری ہیں۔
برطانیہ میں فیئرفورڈ ایئربیس کے قریب سیکیورٹی آپریشن اور پولیس کا گھیراؤ
برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے مغربی انگلینڈ میں واقع فوجی ایئربیس آر اے ایف فیئرفورڈ کے قریب ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے دھماکا خیز مواد اور دہشت گردی سے متعلق جرائم کے شبہے میں 5 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ فضائی اڈہ وہی ہے جسے امریکی افواج ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً 12 بج کر 45 منٹ پر اطلاع موصول ہوئی تھی کہ 3 بڑی سفید وینیں اس حساس فوجی تنصیب کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس اور مقامی ذرائع کے مطابق ایک مقامی خاتون کسان نے نقاب پوش اور سر ڈھانپے ہوئے افراد کے ایک گروپ کو کھیتوں کی طرف بھاگتے دیکھنے کے بعد فوراً پولیس کو مطلع کیا، جس پر مسلح اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس نے ایئربیس کے گرد 400 میٹر کا حفاظتی گھیراؤ قائم کر کے احتیاطی تدابیر کے طور پر قریب واقع 85 گھروں کے رہائشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے جبکہ فوج کی بم ڈسپوزل ٹیم نے روبوٹ کی مدد سے مشکوک گاڑیوں کی تفصیلی تلاشی کا عمل شروع کر دیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے 5 افراد کی شناخت، قومیت یا ان کے اصل عزائم کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں اور تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔ برطانوی وزیرِ دفاع نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اس واقعے کے محرکات یا مبینہ پشت پناہی کے حوالے سے فی الحال کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا تاہم تحقیقات میں ایران سے وابستہ کسی مقصد، روسی تخریب کاری یا کسی شدت پسند سازش کو ممکنہ زاویوں کے طور پر جانچا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ رواں برس مئی میں برطانیہ نے بعض ایرانی شخصیات اور اداروں پر دشمنانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی جولائی میں برطانیہ کو خبردار کیا تھا کہ امریکی بمبار طیاروں کے لیے اس اڈے کا استعمال خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔