ایران کا آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا دعویٰ

قبضے میں لی گئی زیرِ آب گاڑی کو ماہرین کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ اس میں موجود ڈیٹا اور معلومات کا جائزہ لیا جاسکے۔

October 1, 2026 · بام دنیا
ایران کا آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا دعویٰ

ایران کا آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا دعویٰ

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحری افواج نے آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی خودکار زیرِ آب ڈرون قبضے میں لے لیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق زیرِ آب گاڑی آبنائے ہرمز میں نگرانی اور مبینہ جاسوسی کی سرگرمیوں میں مصروف تھی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ڈرون کو ایک کارروائی کے دوران قابو کیا گیا، جس میں انٹیلی جنس معلومات اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتیں استعمال کی گئیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ قبضے میں لی گئی زیرِ آب گاڑی کو ماہرین کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ اس میں موجود ڈیٹا اور معلومات کا جائزہ لیا جاسکے۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے یہ دوسرا امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑا گیا ہے۔ اس سے قبل ستمبر کے آغاز میں بھی پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی خودکار زیرِ آب گاڑی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔
تاہم امریکی حکام نے ایرانی دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے تمام فعال ڈرون اثاثوں کا کنٹرول برقرار رکھتا ہے۔
ڈرون کی شناخت کے حوالے سے بھی ایرانی بیانات میں فرق سامنے آیا ہے۔ ایک بیان میں اسے ریمس 600 قرار دیا گیا، جبکہ بعد میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے زیرِ آب گاڑی کی شناخت موڈ ٹو کنگ فش کے نام سے کی۔
آبنائے ہرمز خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اہم مراکز میں شامل ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے یہاں کسی بھی بحری یا فوجی واقعے سے عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی جہاز رانی متاثر ہوسکتی ہے۔