ریاستی ملکیتی اداروں کی پالیسی میں اہم ترامیم،آئی ایم ایف کی شرط پوری

شفافیت اور احتساب کا نفاذ،وزارت خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری، تمام اداروں کو نئے قواعد ماننا ہوں گے

October 3, 2026 · قومی
ریاستی ملکیتی اداروں کی پالیسی میں اہم ترامیم، آئی ایم ایف کی شرط پوری

ریاستی ملکیتی اداروں کی پالیسی میں اہم ترامیم، آئی ایم ایف کی شرط پوری

وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کی ایک اور اہم شرط پوری کرتے ہوئے ریاستی ملکیتی اداروں سے متعلق 2023 کی پالیسی میں اہم ترامیم کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ترمیم شدہ پالیسی کے تحت تمام سرکاری اداروں کو انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز کے مطابق اپنا حساب کتاب رکھنے کا پابند قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری اداروں کے لیے اندرونی آڈٹ کے طریقہ کار اختیار کرنا بھی لازمی ہوں گے۔

دستاویز کے مطابق فنانس ڈویژن آڈیٹر جنرل کی مشاورت سے مالی انتظام کا فریم ورک تیار کرے گا۔ عام کمپنیوں کے لیے تجویز کردہ رعایتوں کا اطلاق سرکاری ملکیتی اداروں پر بھی ہوگا، جس کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا۔ جب کہ بینکنگ سے متعلق سرکاری اداروں پر اسٹیٹ بینک کے متعلقہ قواعد لاگو ہوں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پالیسی میں ان ترامیم کا بنیادی مقصد سرکاری ملکیتی اداروں کے مالی نظم و نسق، شفافیت اور احتساب کے نظام کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔