روس میں طاعون پھیلنے کی خبریں بے بنیاد،کریملن۔ پاکستانی سرحدوں پر الرٹ جاری
سائبیریا میں صورتحال مکمل قابو میں ہے، حکام کی تردید، پاکستان میں بھی خطرہ نہیں
روس میں طاعون کی وبا پھیلنے کی خبروں کے بعد طبی حکام نے صورتحال کو قابو میں قرار دے دیا ہے۔
روسی صدارتی محل کریملن کے ترجمان نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روس کے علاقے سائبیریا میں طاعون کی خطرناک وباء پھیل گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا پر گردش کرنے والی ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے واضح کیا کہ وبائی صورتحال سے متعلق میڈیا پر شائع ہونے والی بیشتر رپورٹیں جھوٹی ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔
روسی سرکاری ادارے روسپوتریب نادزور کے مطابق مرنے والی خاتون اور اس کے قریبی رابطے میں آنے والے تمام افراد کے تفصیلی طبی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹس کے دوران کسی بھی شخص میں طاعون یا کوئی دوسرا خطرناک جرثومہ نہیں پایا گیا، البتہ رابطے میں رہنے والے 2 افراد میں کووڈ 19 اور 2 میں رائنو وائرس کی تصدیق ہوئی۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقی ادارے کی ملازمہ کی طاعون سے ہلاکت کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا، صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور شہریوں کو غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے سرکاری اعدادوشمار پر انحصار کرنا چاہیے۔
دوسری جانب پاکستان میں وزارت صحت کے حکام نے صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت طاعون کے پھیلنے کا رسک بہت کم ہے۔ وفاقی وزارت صحت کے مطابق روس کے شہر سائبیریا میں پیش آنے والے اس معاملے پر عالمی ادارہ صحت کو بھی مکمل آگاہی حاصل ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر بارڈر ہیلتھ سروسز کو تمام پوائنٹس آف اینٹری پر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے پاس طاعون کی تشخیص کی مکمل طبی صلاحیت موجود ہے۔