غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں21ہزار سے زائد طلبہ وطالبات اوراساتذہ شہید

غزہ میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی عمارات بھی بمباری سے تباہ کی گئیں

October 8, 2026 · امت خاص

اسرائیلی فوج نے غزہ میں بڑے پیمانے پر طلباوطالبات اور اساتذہ شہید کردیئے۔یہ تعداد 21 ہزار سے زائدہے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگ کے دوران طلبہ و طالبات کو بھی ہدف بنا کر قتل کیا، سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی بمباری، فائرنگ اور دیگر حربوں سے اسکولوں کے 19 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات، جن کی عمر 16 سال تک تھی، قتل کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹیوں کے 1386 طلبہ و طالبات کو بھی خصوصی ہدف بنا کر مار دیا گیا، جبکہ زخمی ہونے والے غزہ کے فلسطینی طلبہ و طالبات کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ میں تعلیم سے تعلق کو ختم کرنے کے لیے 179 اسکولوں کو بمباری کرکے مکمل تباہ کردیا۔ سرکاری اسکولوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے 105 اسکولوں کو بھی بمباری کرکے تباہ کیا گیا۔

اسرائیل نے ان اسکولوں کے ساتھ ساتھ غزہ میں موجود یونیورسٹیوں کو بھی بمباری کا خاص ہدف بنایا اور 63 یونیورسٹیوں کی عمارات کو تباہ کردیا ہے۔ رپورٹ میں اسے تعلیمی اداروں کو بڑی تعداد میں ہدف بنا کر تباہ کرنے کی مثال قرار دیا گیا ہے۔

فلسطینی محکمہ تعلیم کے مطابق مجموعی طور پر اب تک 20,500 طلبہ و طالبات اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں قتل کیے گئے ہیں۔ صرف یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے 3,082 طلبہ زخمی ہوئے، جبکہ اسکولوں کے زخمی طلبہ کی تعداد 28,586 رہی۔

ان اعداد و شمار کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان طلبہ و طالبات کی جانوں کے علاوہ اکتوبر 2023 سے اب تک تین تعلیمی سال بھی متاثر ہوئے، اس طرح مجموعی طور پر اب تک لاکھوں بچے متاثر ہوئے ہیں۔

غزہ میں تعلیمی مستقبل کو متاثر کرنے کے لیے اسرائیلی فوج نے اسکولوں سے وابستہ تعلیمی عملے کے 805 افراد کو قتل کیا ہے۔ یونیورسٹیوں کے 246 لیکچررز بھی قتل کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں 3,298 اسکول ملازمین اور ہائر ایجوکیشن سے متعلق 1,493 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔