ایران کا پیداواری نظام طویل اور مسلسل جنگ کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رضا طلائی نیک

وزارت دفاع کا عملہ میزائل یونٹس، ڈرون ٹیموں اور بحری و فضائی افواج کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ جنگی تجربات کی روشنی میں ہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان کو مزید بہتر بنایا جا سکے

October 9, 2026 · بام دنیا
ایران کا پیداواری نظام طویل اور مسلسل جنگ کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رضا طلائی نیک

ایران کا پیداواری نظام طویل اور مسلسل جنگ کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رضا طلائی نیک

تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس طویل عرصے تک جنگ جاری رکھنے کے لیے اسلحہ تیار کرنے کی خاطر خواہ صلاحیت موجود ہے اور جنگ کے دوران ہتھیاروں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا پیداواری نظام طویل اور مسلسل جنگ کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ترجمان کے مطابق جنگ کے دوران اسلحے کی پیداوار، جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں ڈھائی گنا تک بڑھ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے پہلے سے متبادل اور محفوظ پیداواری مراکز تیار کر رکھے تھے، جس کے باعث فوجی سازوسامان کی تیاری کا عمل مسلسل جاری رہا۔

رضا طلائی نیک نے بتایا کہ جنگ کے دوران تقریباً 9 ہزار کمپنیوں نے رضاکارانہ طور پر فوجی سازوسامان کی تیاری میں حصہ لیا۔ ان کے مطابق وزارت دفاع کا عملہ میزائل یونٹس، ڈرون ٹیموں اور بحری و فضائی افواج کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ جنگی تجربات کی روشنی میں ہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ ملک کی پہلی ترجیح اپنی مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنا ہے، تاہم مستقبل میں اضافی دفاعی مصنوعات تیار کرکے انہیں برآمد کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران پہلے اپنی دفاعی ضروریات پوری کرے گا اور اس کے بعد برآمدات کے لیے اضافی پیداوار بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔