فرانس میں ملک گیر احتجاج شدت اختیار کر گیا، 500 گرفتار

تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ، پرتشدد جھڑپوں میں سیکڑوں زخمی

October 9, 2026 · بام دنیا
فرانس میں ملک گیر احتجاج شدت اختیار کر گیا، 500 گرفتار

فرانس میں ملک گیر احتجاج شدت اختیار کر گیا، 500 گرفتار

فرانس میں سرکاری ہائی اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں، بنیادی سہولیات کی کمی اور اساتذہ کی قلت کے خلاف جاری طلبہ تحریک اب پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو چکی ہے، جس کے بعد ملک بھر سے تقریباً 500 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ احتجاج ستمبر کے آخر میں اس وقت شروع ہوا جب 15 سے 17 سال کی عمر کے طلبہ نے سیکڑوں ہائی اسکولوں کے داخلی راستے بند کرکے بہتر تعلیمی ماحول کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں اس تحریک میں والدین، اساتذہ اور یونین کارکن بھی بڑی تعداد میں شامل ہو گئے۔ فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ یونینز نے شرکا کی تعداد اس سے بھی زیادہ بتائی ہے۔ مظاہروں کے دوران پیرس، بورڈو، سینٹ ایٹیان اور دیگر شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں بورڈو میں پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے کی کوشش اور ایک اسکول میں توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے۔

دستاویزات اور سرکاری ذرائع کے مطابق پُرتشدد جھڑپوں اور پولیس کارروائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ وزیرِ اعظم سباستیان لیکورنو نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اب تک جھڑپوں میں کم از کم 215 نوعمر طلبہ اور 85 اسکول ملازمین زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 700 سے زائد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ منگل کے روز ہونے والے کریک ڈاؤن میں 488 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حقوق کی تنظیموں اور طلبہ یونینز نے سکیورٹی فورسز پر طاقت کے غیر متناسب استعمال کا شدید الزام عائد کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک واقعے میں ایک نوجوان اسٹن گرینیڈ کے پھٹنے سے اپنا ہاتھ کھو بیٹھا جبکہ ایک اور 14 سالہ طالب علم کے چہرے پر آنسو گیس کا گرینیڈ لگنے سے اس کے کئی دانت ٹوٹ گئے۔

وزارتِ انصاف کے مطابق ملک بھر میں 1800 سے زائد افراد کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات چلائے جا رہے ہیں جن میں 1483 نابالغ شامل ہیں۔ دوسری جانب حکومت نے اضافی اساتذہ کی تعیناتی اور تعلیمی نظام کی بہتری کا وعدہ کیا ہے، تاہم طلبہ رہنماؤں نے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔