خیبر پختونخوا کی صورتحال پر مزید خاموش نہیں رہ سکتے،سیاسی جماعتیں فیصلہ کریں، بیرسٹر دانیال چوہدری
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت کی توجہ امن و امان کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہے
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر مزید خاموش نہیں رہ سکتے،سیاسی جماعتیں فیصلہ کریں، بیرسٹر دانیال چوہدری
راولپنڈی: وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں جاری حالات مزید برداشت نہیں کیے جا سکتے، سیاسی جماعتوں کو اب واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔
راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر دانیال چوہدری نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت کی توجہ امن و امان کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو بتانا چاہیے کہ وہ مزید کتنا انتظار کریں گی، جبکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں شہری دہشت گردی سے متاثر ہو رہے ہیں۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے 5 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں کسٹمز اہلکاروں کی ہلاکت اور پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی قیادت کے کردار پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اور کابینہ کو متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں شریک ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کے اہل خانہ یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ صوبائی قیادت ان کے جنازوں میں کیوں شریک نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مؤثر پالیسی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کو گزشتہ 15 برس کے دوران اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے اقدامات کرنے چاہییں تھے۔ انہوں نے سیاسی قیادت کی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف صوبہ دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور دوسری طرف لانگ مارچ کی سیاست جاری ہے۔
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے صوبائی حکومت کے ترقیاتی اخراجات پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کے دعوے کے مطابق پشاور کی خوبصورتی کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ پولیس کے لیے 44 ارب روپے کے مقابلے میں صرف ایک ارب 20 کروڑ روپے فراہم کیے گئے۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعات اور جانی نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے لیے وسائل اور ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا اور اس حوالے سے کسی قسم کی نرمی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے بعض سیاسی جماعتوں پر دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار نہ کرنے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ اداروں کے خلاف نفرت انگیز سیاست سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
یہ تمام مؤقف بیرسٹر دانیال چوہدری کی پریس کانفرنس میں کیے گئے بیانات اور الزامات پر مبنی ہیں۔ صوبائی حکومت کا مؤقف اور پیش کردہ مالی اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں شامل نہیں۔