امریکہ کے ایچ ون بی ویزوں میں پاکستانیوں کو کتنے ملتے تھے،تعداد سامنے آگئی

مناو بھارتی یونیورسٹی کی جعلی ڈگریوں کا اسکینڈل،امریکی امیگریشن پالیسی میں بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کودھچکا

October 9, 2026 · بام دنیا

امریکہ کے ایچ ون بیامریکہ کے ایچ ون بی ویزوں میں بھارتیوں اور پاکستانیوں کی تعداد کے اعدادوشمار سامنے آگئے۔ (علامتی تصویر)

امریکہ نے اپنا ایچ ون بی (H-1B) ویزا پروگرام عملی طور پر بند کردیا ہے جس کے تحت دوسرے ممالک کے ہنرمند یا پڑھے لکھے افراد کو امریکہ میں ملازمتیں دی جاتی ہیں۔ اس فیصلے سے کتنے پاکستانی متاثر ہوں گے تعدادسامنے آگئی۔

امریکی اعدادوشمار کے مطابق سال 2024 میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے 3 ہزار 52 افراد کی درخواستیں منظور ہوئیں، جو مجموعی تعداد کا 0.8 فیصد تھیں۔ امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے اعدادوشمار کے مطابق بھارت کے 2 لاکھ 83 ہزار 397 افراد کی درخواستیں منظور ہوئیں، جو مجموعی تعداد کا 71 فیصد بنتی ہیں، جبکہ چین 46 ہزار 680 افراد اور 11.7 فیصد حصے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔

ایچ ون بی ویزا امریکی کمپنیوں کو ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور دیگر خصوصی شعبوں میں اہل غیرملکی کارکنوں کو عارضی ملازمت دینے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے ذریعے لاکھوں بھارتی امریکہ پہنچے ہیں۔

امریکی حکومت نے اکتوبر 2026 میں مائیکروسافٹ، ایڈوب اور متعدد بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے خلاف مستقل رہائش کے لیے ملازمت پر مبنی لیبر سرٹیفکیشن پروگرام (PERM) میں کارروائی کی ہے۔ اس فہرست میں انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS)، وپرو، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز، کاگنیزنٹ اور کیپجیمینی شامل ہیں۔

امریکی محکمہ محنت نے ان کمپنیوں سے متعلق PERM پروگرام کی نئی درخواستوں اور زیرِ التوا درخواستوں کی کارروائی معطل کی ہے۔ یہ پروگرام غیرملکی ملازمین کے لیے گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔

یہ اقدام امریکی حکومت کی جانب سے غیرملکی کارکنوں کی بھرتی اور امیگریشن پروگراموں کے استعمال کی جانچ پڑتال کا حصہ ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذکورہ کمپنیوں کے تمام ایچ ون بی ویزے منسوخ کردیے گئے ہیں یا وہ اب بھارت سے کسی کارکن کو امریکہ نہیں بلا سکتیں۔ پابندی کا تعلق مستقل رہائش کے لیے PERM پروگرام سے ہے، نہ کہ تمام ایچ ون بی ویزوں پر مکمل پابندی سے۔

یوں ایک طرف مالی سال 2024 کے اعدادوشمار میں بھارتی شہری ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے والوں میں نمایاں اکثریت رکھتے تھے، جبکہ دوسری جانب امریکی حکومت کی حالیہ کارروائی نے بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے گرین کارڈ کے عمل کو متاثر کیا ہے۔

مناو بھارتی یونیورسٹی کی 36 ہزار جعلی ڈگریوں کا معاملہ

بھارت کی ریاست ہماچل پردیش میں قائم مناو بھارتی یونیورسٹی کے خلاف جعلی ڈگریاں جاری کرنے کا معاملہ بھی سامنے آچکا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے انکشاف کیا تھا کہ یونیورسٹی نے 11 سال کے دوران مختلف ریاستوں میں تقریباً 36 ہزار جعلی ڈگریاں جاری کیں۔ مجموعی طور پر جاری ہونے والی تقریباً 41 ہزار ڈگریوں میں سے اس وقت تک صرف 5 ہزار کو حقیقی قرار دیا گیا تھا۔ اس معاملے سے متعلق تحقیقات میں جعلی اسناد کی فروخت کا انکشاف ہوا تھا۔

تاہم، ان جعلی ڈگریوں کے ذریعے امریکہ کے ایچ ون بی ویزے حاصل کرنے والے افراد کی تعداد یا اس اسکینڈل کا ایچ ون بی ویزا پروگرام سے براہ راست تعلق ثابت کرنے والے اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں۔ اسی طرح اس دعوے کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی کہ 2015 سے 2025 کے دوران امریکہ جانے والے بھارتی ایچ ون بی ویزا ہولڈرز میں سے 90 فیصد کے پاس جعلی ڈگریاں تھیں۔