ٹرمپ کی سابق فوجی ڈاکٹر کی سزائے موت براہِ راست دکھانے کی مخالفت
ٹرمپ نے واضح کیا کہ نڈال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی، تاہم اس کارروائی کو براہِ راست دکھانے کے بارے میں فیصلہ ہونا باقی ہے۔
ٹرمپ کی سابق فوجی ڈاکٹر کی سزائے موت براہِ راست دکھانے کی مخالفت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق فوجی ڈاکٹر نڈال ملک حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر کرنے کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ نڈال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی، تاہم اس کارروائی کو براہِ راست دکھانے کے بارے میں فیصلہ ہونا باقی ہے۔
نڈال حسن نے 2009 میں امریکی ریاست ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 13 فوجی ہلاک اور 32 افراد زخمی ہوئے تھے۔ فوجی عدالت نے 2013 میں انہیں سزائے موت سنائی تھی۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ان کی سزا پر عمل درآمد 3 دسمبر 2026 کو فورٹ ہُڈ میں مقرر ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے پھانسی کو براہِ راست نشر کرنے کے اعلان کے بعد امریکا میں قانونی، سیاسی اور اخلاقی بحث چھڑ گئی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر پھانسی براہِ راست نشر کی گئی تو وہ اسے نہیں دیکھیں گے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بھی اس معاملے پر مکمل اتفاقِ رائے نہیں، جبکہ بعض امریکی قانون سازوں اور مذہبی رہنماؤں نے سزائے موت کو عوام کے سامنے براہِ راست دکھانے کی مخالفت کی ہے۔