کے پی حکومت دہشتگردوں کیخلاف وفاق کا ساتھ دینے کو تیار نہیں، اب قانون اپنا راستہ بنائے گا،وزیراعظم
لانگ مارچ کے ذریعے ملک کو ایک بار پھر عدم استحکام کی طرف لے جانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔
کے پی حکومت دہشتگردوں کیخلاف وفاق کا ساتھ دینے کو تیار نہیں، اب قانون اپنا راستہ بنائے گا،وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے چاہییں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت تعاون کے لیے تیار نہیں تو اب قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق کا ساتھ دینے کے بجائے اس معاملے پر خاموش دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک کو دوبارہ بدامنی اور تباہی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟
شہباز شریف کے مطابق گزشتہ 10 برس کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے 800 ارب روپے فراہم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے ذریعے ملک کو ایک بار پھر عدم استحکام کی طرف لے جانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مشاورت کے بعد اپوزیشن سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم ان کے بقول خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثنا اللہ، امیر مقام اور دیگر رہنماؤں نے مذاکرات کی کوششیں کیں۔
معاشی صورت حال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہو چکا ہے اور امید ہے کہ رواں سال پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط موصول ہو جائے گی۔ ان کے مطابق نیویارک میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ ملاقات مثبت رہی، جس میں پاکستان کی معاشی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف کیا گیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور معاشی ترقی و خوشحالی کے لیے ٹیم ورک کے تحت کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں شخصیات نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا اور ایران کے متعدد دورے کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ایران کے ساتھ تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچے ہیں۔ وزیراعظم نے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں اور پاکستان سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پاکستان کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتے ہیں۔