بھارت میں احتجاج، کے دوران اداکار عمران خان اور یوٹیوبر دھرو راٹھی سمیت ہزاروں افراد گرفتار

بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، دہلی میں انٹرنیٹ سروس معطل، چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ تک تحریک جاری رہے گی

October 11, 2026 · بام دنیا
ادکار عمران خان کو گرفتار کرکے قیدی وین میں ڈالا جا رہا ہے

ادکار عمران خان کو گرفتار کرکے قیدی وین میں ڈالا جا رہا ہے

بھارت میں انتخابی فہرستوں میں مبینہ دھاندلی اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران ممبئی اور دہلی سمیت مختلف شہروں میں سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بالی وڈ اداکار عمران خان، معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

میڈیا رپورٹس اور پولیس حکام کے مطابق 43 سالہ اداکار عمران خان کو 10 اکتوبر کے روز ممبئی کے کرانتی میدان سے حراست میں لیا گیا، جہاں انہوں نے حراست کے دوران پولیس وین سے ایک سیلفی شیئر کی جس پر طنزیہ کیپشن درج تھا کہ میں ڈرائیو پر جا رہا ہوں۔ ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کی باضابطہ اجازت نہیں دی گئی تھی کیونکہ عدالت کے احکامات کے مطابق شہر میں صرف آزاد میدان میں ہی مظاہرے کی اجازت ہے۔ دوسری طرف پارٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ انہوں نے ای میل کے ذریعے اجازت طلب کی تھی مگر پولیس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

ادھر نئی دہلی اور دیگر علاقوں میں جنتر منتر کی جانب مارچ کرنے والے طلباء اور سیاسی کارکنوں کو روکنے کے لیے حکومت نے سخت اقدامات کیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت ڈپکے، شریک کنوینر آشوتوش رانکا اور سورَو داس کو دہلی ایئرپورٹ پر لینڈ کرتے ہی حراست میں لے لیا گیا، جبکہ معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کو بھی گروگرام میں ان کے گھر سے صبح سویرے چھاپہ مار کر گرفتار کیا گیا۔ پولیس کارروائی کے دوران دھرو راٹھی کی والدہ نے دروازہ کھولا جس کے بعد اہلکار اندر داخل ہوئے۔

مظاہروں کو روکنے کے لیے دہلی میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکار و نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت میں 250 سے زائد ٹرینیں منسوخ، میٹرو اسٹیشنز بند اور موبائل فونز سمیت انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔ گرفتار رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مودی سرکار نوجوانوں کی تحریک سے خوفزدہ ہے اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے مستعفی ہونے تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔