صوبائی حکومت کو غیر فعال کردیا گیا ہے ، معاونت کیلیے فوج تعینات کر دی گئی ، اعظم نذیر تارڑ

فوج وہاں پہلے بھی تعینات تھی، مگر اب اس کو مزید تعاون پر مبنی کوششیں کرنے کے لیے تازہ حکمنامہ جاری کیا گیا ہے، پریس کانفرنس

October 11, 2026 · اہم خبریں, قومی
پریس کانفرنس

پریس کانفرنس

اسلام آباد: آئینی عہدیداران غیرفعال جبکہ افواج پاکستان صوبائی حکومت کی معاونت کے لیے تعینات کر دی گئی ہیں

پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ حالیہ اقدامات کے تحت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین، ایڈوکیٹ جنرل اور دیگر کئی آئینی عہدیداران کو فوری طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہاکہ اسی طرح آرٹیکل 245 کے تحت وفاقی حکومت نے افواج پاکستان کو صوبائی حکومت جو اب گورنر کے سربراہی میں صوبے کے معاملات سنبھالے ہوئے ہے کی معاونت کے لیے تعینات کرنے کا حکمنامہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ میں یہاں وضاحت کر دوں کہ فوج وہاں پہلے بھی تعینات تھی، مگر اب اس کو مزید تعاون پر مبنی کوششیں کرنے کے لیے تازہ حکمنامہ جاری کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت اب وفاقی حکومت وقتاً فوقتاً گورنر خیبر پختونخوا کے ذریعے اقدامات کا اعلان کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ آج جاری ہونے والے تمام تر احکامات اور حکمناموں کی توثیق آئین کے تحت پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے آئندہ دس روز کے دوران حاصل کی جائے گی اور اس حوالے سے منگل کے روز پارلیمان کا اجلاس طلب کر لیا گیاہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا ہے، بدقسمتی سے زیادہ تر حملوں کا نشانہ پاک فوج، خیبرپختونخوا پولیس اور علما کرام بنے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں آگ لگی ہوئی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے اثرات دوسرے صوبوں تک بھی پہنچ رہے تھے، ایک طرف معیشت کو چلانے کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف دہشت گردی بڑھ رہی ہے، ایسے حالات میں کون سرمایہ کاری کرنے آئے گا؟

انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 232 ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہے، وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ اجلاس کے دوران مشاورت ہوئی، جس کے بعد تفصیلی غور و خوض کے نتیجے میں صدر مملکت نے وزیراعظم کے مشورے پر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی۔

وفاقی وزیر قانون کے مطابق مذاکرات رات ڈھائی بجے تک جاری رہے، تاہم صوبے کی صورتحال میں بہتری کے لیے آئینی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت کو غیر فعال کردیا گیا ہے اور وفاق کی جانب سے گورنر کو صوبائی حکومت کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں، گورنر کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کی توثیق دس دن کے اندر ہوگی، آئندہ دنوں میں پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جا رہا ہے، جہاں مشترکہ اجلاس میں اس کی منظوری دی جائے گی۔ تمام معاملات پارلیمان کے سامنے رکھے جائیں گے۔