یمنی حوثیوں اورسعودی عرب کے درمیان کشیدگی پر ثالثی کی ایرانی پیشکش
اہم رابطہ، وزرائے خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو، کشیدگی کم کرنے پر زور
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان
تہران اور ریاض کے تعلقات میں ایک نئی پیش رفت کے تحت ایران نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی باضابطہ پیشکش کر دی ہے۔ یہ پیشکش ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران کی۔
رپورٹس کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے سلسلے میں نمایاں تیزی آئی ہے، اور دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد یہ پہلی ٹیلیفونک بات چیت ہے۔
میڈیا رپورٹس اور سعودی حکام کے مطابق حوثی جنگجوؤں کی جانب سے گزشتہ 1 ہفتے کے دوران سعودی عرب کو متعدد بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک حملے کے نتیجے میں 1 پاکستانی شہری شہید جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق اس حملے کے بعد ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے باعث فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔ اس سے دو روز قبل بھی اسی ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک شدید حملے میں 13 افراد جاں بحق اور 309 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جن میں مختلف ممالک کے شہری بھی شامل تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران خطے میں امن و استحکام کے قیام اور سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورت حال اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ تاہم، سرکاری سطح پر تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سعودی حکام نے ایرانی پیشکش پر کیا ردعمل ظاہر کیا ہے یا آیا اس حوالے سے کوئی باضابطہ لائحہ عمل طے پایا ہے یا نہیں۔