سڈنی میں مسلمانوں کا دو روزہ کنونشن، 5 ہزار افراد کی شرکت
مولانا طارق جمیل ،ڈاکٹر یاسر قاضی اور ڈاکٹر عطاالرحمٰن اور رئیس خان کا ولولہ انگیز خطاب
مولانا طارق جمیل و دیگر کنونشن سے خطاب کر رہے ہیں
آسٹریلیا کے بڑے تاریخی شہر سڈنی میں اسلامی فورم آف آسٹریلین مسلمز (IFAM) کے زیر اہتمام چوتھا سالانہ دو روزہ کنونشن روزہل گارڈنز میں نہایت تزک و احتشام سے منعقد ہوا۔
عظیم الشان اجتماع میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھر سے 5 ہزار سے زائد مسلمانوں نے شرکت کی۔ یہ کنونشن محض ایک اجتماع نہیں تھا بلکہ علم، تربیت، ثقافت اور کمیونٹی کی مضبوطی کا ایک جامع پلیٹ فارم ثابت ہوا۔یہ مسلسل چوتھا بڑا اجتماع تھا۔
اس سال کنونشن کا مرکزی موضوع “ اٹھو، متاثر کرو اور رہنمائی کرو” تھا۔- ایک بہتر آسٹریلوی مستقبل کی تشکیل” تھا اس تھیم کا مقصد آسٹریلیا میں مقیم مسلمانوں میں یہ شعور بیدار کرنا تھا کہ وہ صرف اس معاشرے کا حصہ ہی نہیں بلکہ اس کی تعمیر و ترقی میں قائدانہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مثبت سوچ، دیانت دار قیادت، اجتماعی ذمہ داری اور عملی خدمت اس پیغام کی بنیاد تھے۔ کی سب سے بڑی کشش عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالرز کی شرکت تھی۔جن میں امریکہ کے جدید اور دینی علوم کے ایک بڑے اسکالر یاسر قاضی، اسلامی سرکل نارتھ امریکہ کے نائب صدر سید منصور اور امریکہ ے مسلمانوں کی فقہی کونسل کے مولانا عبدالرحمٰن خان، پاکستان کے مقبول روحانی اور تبلیغی شخصیت مولانا طارق جمیل اور معروف دینی اسکالر مولانا عطاالرحمٰن شامل تھے۔
مولانا طارق جمیل کے خطاب کا محور ایمان کی تجدید، اصلاحِ نفس، دل کی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی مضبوطی تھا۔ انہوں نے اردو زبان میں انتہائی سادہ اور دلنشین انداز میں بتایا کہ مضبوط معاشرہ مضبوط انسانوں سے بنتا ہے اور مضبوط انسان اللہ سے جڑ کر بنتا ہے، سامعین نے ان کی گفتگو کو بہت عقیدت سے سنا۔
پاکستان کے معروف اسکالر ڈاکٹر عطا الرحمٰن نے آسٹریلیا اور پاکستان کی مسلم کمیونٹیز کے درمیان علمی رشتے کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی علمی روایت اور جدید تعلیم کے درمیان امتزاج کو فروغ دیا جائے اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ ان تمام نشستوں کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو اپنے کردار، اخلاق، خاندان اور خدمتِ خلق سے آسٹریلوی معاشرے میں نفوذ کرناچاہئے اور اپنے ایمانی کردار سے مقامی باشندوں کے دل جیتنے ہوں گے۔اس میں آسٹریلیا کی بڑی سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی۔
حال ہی میں آسٹریلین گرینز پارٹی کے سربراہ منتخب ہونے والے سینیٹر ڈیوڈ شوبریج اور رکنِ پارلیمنٹ وارین کربی کی آمد نے یہ ثابت کیا کہ آسٹریلوی معاشرہ مسلم کمیونٹی کو ایک اہم اور ذمہ دار شہری کے طور پر دیکھتا ہے۔کنونشن میں 100 سے زائد اسٹالز بھی لگائے گئے تھے جن میں اسلامی کتب، تعلیمی اداروں، فلاحی تنظیموں اور حلال کاروباروں نے اپنی خدمات پیش کیں۔
بچوں کے لیے اسلامی تربیت اور تفریحی سرگرمیاں، نوجوانوں کے لیے خصوصی یوتھ سرکلز، جدید دور کے تقاضوں کے پیش نظر مصنوعی ذہانت (AI)کے موضوع پر ایک خصوصی سیشن بھی رکھا گیا، جس کو آسٹریلیا کی پرتھ یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کے پروفیسر مسعود احمد خان نے دوسرے نوجوان ماہرین کے ساتھ پیش کیا۔
ایک سیشن ادبی سیشن میں مشاعرے کا بھی اہتمام تھا جس میں بھارت کے عالمی شہرت یافتہ اردو شاعر منظر بھوپالی نے اپنا کلام پیش کیا۔ان کی شاعری نے دینی ماحول میں ادبی تازگی پیدا کر دی۔ یہ مشاعرہ اس بات کا ثبوت تھا کہ IFAM دین کے ساتھ ساتھ زبان و ادب اور مشترکہ تہذیبی ورثے کو بھی زندہ رکھنا چاہتا ہے، جو آسٹریلیا میں بسنے والے پاکستانی، ہندوستانی اور دیگر اردو بولنے والوں کے لیے رابطے کا ذریعہ ہے۔