خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی 2029 تک جا سکتی ہے،رانا ثناء اللہ
وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ٹیم اگر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
. خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی 2029 تک جا سکتی ہے، رانا ثنا
اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ کم از کم ایک سال تک جاری رہ سکتا ہے اور اس کی مدت 2029 تک بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے 2029 تک ایمرجنسی برقرار رکھنا بھی کوئی مہنگا سودا نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ٹیم اگر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس طرح عثمان بزدار کو پارٹی کی قیادت سونپ کر حکومت دی گئی تھی، اسی طرح سہیل آفریدی کو بھی ذمہ داری دی گئی۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ان کے تجربے کے مقابلے میں کم تجربہ رکھنے والے افراد مذاکرات کے دوران سہیل آفریدی سے ہدایات لے رہے تھے۔
رانا ثنا اللہ نے مولانا فضل الرحمان کے مؤقف پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نے واضح کیا تھا کہ مذاکرات سے پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری کا مرحلہ باقی ہے۔ اس سلسلے میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس آج شام 6 بجے طلب کیے گئے ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی شیڈول ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ صوبے کے لیے پالیسی وفاق سے آئے گی، کابل سے نہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام متعلقہ اداروں کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔
گورنر کے مطابق حکومت کی پہلی ترجیح پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے محکمے کی صلاحیت بڑھانا ہے۔ پولیس اہلکاروں کو جدید سہولتیں فراہم کرنے، ان کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے برابر لانے اور شہدا پیکج میں اضافے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔