آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم بردار 2 جہازوں پر حملے، ایک سمندر میں ڈوب گیا
جہاز پر سوار عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے، حکام
فائل فوٹو
سنگا پور: سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سنگاپور کے پرچم بردار 2 مال بردار بحری جہازوں کو 13 اور 14 اکتوبر کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا۔
ادارے کے مطابق جہاز ’جی ایف ایس پرائیڈ‘ سے پروجیکٹائل ٹکرانے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور جہاز ڈوب گیا۔
سنگاپور کا کہنا ہے کہ جہاز پر سوار عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے بھی کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ’خلاف ورزی کرنے والا کنٹینر بردار جہاز‘ بحری ’بارودی سرنگ‘ سے ٹکرا گیا جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اُٹی اور بعد ازاں وہ ڈوب گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق یہ جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں ڈوبا۔ تاہم، بیان میں جہاز کے مالک ملک کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
سنگاپور کے مطابق، دوسرا جہاز ’جے ایف ایس جیزیل‘ بھی نشانہ بننے سے متاثر ہوا اور اس کے بیرونی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، تاہم وہ اپنے انجن کی مدد سے بحفاظت ایک محفوظ لنگرگاہ تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔
اس جہاز پر سوار عملے کے تمام 22 ارکان محفوظ ہیں اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی نے بتایا کہ دونوں جہازوں پر سنگاپور کا کوئی شہری سوار نہیں تھا۔
سنگاپور نے ان کارروائیوں کو ’بلااشتعال‘، ’ناقابلِ جواز‘ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
قبل ازیں برطانوی میری ٹائم ایجنسی (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے 50 ہزار ٹن وزنی کنٹینر جہاز پر حملہ کیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز سے نکلنے والے 19 ہزار ٹن وزنی ایک اور جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق دونوں واقعات میں جہازوں کو معمولی نقصان پہنچا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
برطانوی میری ٹائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ حملوں کے باوجود دونوں تجارتی جہازوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔