کیا اسرائیلی اقتدار کی چابی عرب مسلم جماعتوں کے پاس آگئی ؟
نیتن یاہو کے الزامات پر تحقیقات بھی شروع
اسرائیلی انتخابات، ووٹوں کی گنتی جاری، پولز کے مطابق نیتن یاہو کی حکومت خطرے میں پڑگئی
اسرائیل کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج نے تل ابیب کی سیاسی فضا میں بڑا ہلچل مچا دیا ہے۔ عرب اکثریتی جماعتوں نے ریکارڈ نشستیں حاصل کر کے ممکنہ “کنگ میکر” کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے غیر ملکی فنڈنگ اور اثر اندازی کے الزامات عائد کیے ہیں، جن پر سینٹرل الیکشن کمیٹی کے چیئرمین نے شین بیت سے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
جزوی نتائج کے مطابق (تقریباً 90 فیصد ووٹ گننے کے بعد) نیتن یاہو کی قیادت والا بلاک تقریباً 53 نشستوں پر ہے ۔ مخالف بلاک (گادی آئیزنکوٹ کی یشار سمیت) تقریباً 48 نشستوں پر کھڑا ہے۔ دونوں بلاکس کو اکثریت (61 نشستیں) حاصل کرنے کے لیے مزید نشستوں کی ضرورت ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے میں عرب جماعتیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔
اسرائیل کے عرب شہریوں نے اس بار غیر معمولی تعداد میں ووٹ ڈالے۔ “مشترکہ فہرست” (Joint List، جس میں حداش، تاعل اور بلد شامل ہیں) اور اسلامی جماعت “رعام” (Ra’am) نے مل کر تقریباً 18 سے 19 نشستیں حاصل کرنے کی پیش گوئی کی ہے، جو اسرائیلی تاریخ میں عرب جماعتوں کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ماضی میں عرب ووٹرز الیکشن کا بائیکاٹ کرتے تھے، مگر اس بار ٹرن آؤٹ میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ جماعتیں طاقتور پوزیشن میں آ گئیں۔
ان جماعتوں کا بنیادی ایجنڈا عرب شہریوں کے حقوق، مساوات اور فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق ہے۔ رعام کو اسلامی تحریک کی نمائندگی کرنے والی جماعت سمجھا جاتا ہے۔ مشترکہ فہرست میں مسلم، مسیحی اور سیکولر عرب رہنما شامل ہیں۔
نتائج دیکھ کر نیتن یاہو اور ان کے حامیوں نے الزام لگایا کہ قطر اور ترکی جیسے ممالک نے عرب ووٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے فنڈز بھیجے تاکہ ٹرن آؤٹ بڑھایا جا سکے۔ صحرائے نقب سے کچھ افراد کو نقدی بھرے لفافوں کے ساتھ گرفتار بھی کیا گیا۔اس کے بعد سینٹرل الیکشن کمیٹی کے چیئرمین اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس نوام سوہلبرگ نے ایک غیر معمولی حکم جاری کیا۔ انہوں نے شین بیت (اسرائیل کی اندرونی سیکیورٹی ایجنسی) کے چیف ڈیوڈ زینی کو ہدایت دی کہ غیر ملکی فنڈنگ اور انتخابی رشوت کے الزامات کی فوری تحقیقات کریں۔ جج نے واضح کیا کہ معاملہ غیر ملکی مداخلت کا ہے اس لیے انکوائری ضروری ہے، اور ابتدائی رپورٹ کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ عرب جماعتیں کسی حکومت سازی میں براہ راست یا باہر سے کردار ادا کریں گی، یا نیتن یاہو تحقیقات کی آڑ میں ان کے اثر کو محدود کرنے کی کوشش کریں گے۔ مخالف بلاک کے کچھ رہنما ابھی تک عرب جماعتوں پر انحصار کرنے سے گریزاں ہیں، رعام کے رہنما منصور عباس نے تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
یہ نتائج اسرائیل کی سیاست میں عرب اقلیت کے بڑھتے ہوئے سیاسی وزن کو واضح کرتے ہیں۔ حتمی نتائج اور تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو گا کہ اقتدار کی چابی کس کے ہاتھ میں جائے گی۔