عرب جماعتوں پر دھاندلی کے الزام کا منصوبہ پہلے سے تیار تھا
الیکشن سے پہلے طے کرلیا گیا تھا کہ شکست کی صورت میں جعلی شواہد پیش کیے جائیں گے- اسرائیلی میڈیا نے نیتن یاہو کا سیاہ چہرہ بے نقاب کر دیاروپرٹ
فائل فوٹو
امت رپورٹ :
الیکشن میں اسرائیلی عوام کی اکثریت کی جانب سے ٹھکرائے جانے اور عرب جماعتوں کی تاریخی کامیابی پر ہزاروں فلسطینیوں کا قاتل خون آشام درندہ نیتن یاہو رو پڑا ہے۔ عرب جماعتوں کی تاریخی کامیابی اسے ہضم نہیں ہو رہی۔ اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے نیتن یاہو نے عرب جماعتوں پر الیکشن چوری کرنے کا جو الزام لگایا ہے، اس پر اسے اپنے ہی لوگ آئینہ دکھا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے فلسطینیوں کے قاتل پر سخت لعن طعن کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں خود اسرائیلی میڈیا نے یہ بھانڈا پھوڑ دیا ہے کہ عرب جماعتوں کی فتح پر دھاندلی کا الزام لگانے کا منصوبہ پہلے ہی تیار کرلیا گیا تھا۔ کیوں کہ نیتن یاہو کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کی پارٹی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے گی اور اس نے اپنے شیطانی دور میں جس طرح ہزاروں معصوم فلسطینی بچوں کی نسل کشی کی، اس کے ردعمل میں اسرائیل کا عرب ووٹر حرکت میں آئے گا۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ عرب جماعتوں نے الیکشن ’’چرا لیا‘‘ ہے، اور ساتھ ہی پولیس اور شن بیت سے بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ اور دھونس دھمکی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ الیکشن میں اپنی تاریخی کارکردگی کے بعد یہ عرب جماعتیں ’’کنگ میکر‘‘ بن کر ابھری ہیں۔ تاہم اسرائیل کی سنٹرل الیکشن کمیٹی کے ایک عہدیدار نے چینل 12 نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کر دیا۔
مسلم عرب قیادت والی سیاسی جماعتوں ’’راعم‘‘ اور ’’جوائنٹ لسٹ‘‘ نے ریکارڈ ووٹ حاصل کیے۔ اب تک کے الیکشن نتائج کے مطابق وہ انیس نشستیں جیت چکی ہیں۔ ماضی میں ان عرب جماعتوں کے حصے میں زیادہ سے زیادہ دس سیٹیں آتی تھیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اس تعداد کا مطلب یہ ہے کہ نیتن یاہو کا اتحاد اور اس کی مخالفت کرنے والی یہودی قیادت والی جماعتوں کا اتحاد، دونوں ہی کنیسٹ (پارلیمنٹ) میں اکثریت حاصل کرنے سے بہت دور رہیں گے۔
اگرچہ نیتن یاہو کا اہم حریف، گاڈی آئزنکوٹ اب بھی عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنا سکتا ہے۔ تاہم اس کے اتحاد میں شامل کچھ متعصب یہودی اپوزیشن جماعتیں اس کے حق میں نہیں ہیں۔ یوں اسرائیل ایک بدترین سیاسی بحران میں پھنستا دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ اکثریت سے محروم نیتن یاہو کے اتحاد کے ساتھ عرب جماعتیں جانے سے انکاری ہیں اور اس کے مخالف گاڈی آئزنکوٹ کے اتحاد میں شامل کچھ یہودی پارٹیاں عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت نہیں بنانا چاہتیں۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ پھر حکومت کون بنائے گا؟ کیا ملک کو ایک اور الیکشن کی طرف جانا پڑے گا۔ اگر ایک اور الیکشن کے بعد بھی رزلٹ یہی آیا تو پھر کیا ہوگا؟ اسی لیے در پردہ یہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ عرب جماعتوں کو باہر رکھ کر نیتن یاہو اور گاڈی آئزنکوٹ کے یہودی پارٹیوں پر مشتمل اتحاد مل کر ایک نام نہاد قومی حکومت بنالیں، حالانکہ یہ آپس میں سخت سیاسی مخالف ہیں اور الیکشن مہم کے دوران ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگاتے رہے ہیں۔
ایسے میں ٹائمز آف اسرائیل نے نیتن یاہو کے سیاہ چہرے سے نقاب اتارتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی پارٹی کو اندازہ تھا کہ اسے اکثریت نہیں ملے گی۔ چنانچہ اس شکست کو چھپانے کے لیے عرب جماعتوں پر الیکشن چوری کا الزام لگانے کا منصوبہ پہلے سے ہی تیار کرلیا گیا تھا۔
اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’عبرانی میڈیا نے منگل کو ہونے والی ووٹنگ سے پہلے یہ رپورٹ دی تھی کہ ’لیکوڈ‘ پارٹی نے عرب علاقوں کے انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس پلان میں طے کیا گیا تھا کہ اگر نیتن یاہو الیکشن نہ جیتا تو پارٹی انتخابی نتائج کو ’’چوری شدہ‘‘ قرار دے گی، اور اس مقصد کے لیے پارٹی نے پہلے سے ہی متعدد شکایات اور دھاندلی کے الزامات تیار کر رکھے تھے۔ اور اب اس طے شدہ منصوبے پر ہی عمل کیا جارہا ہے‘‘۔
لیکوڈ پارٹی کی جانب سے انتخابی دھاندلی کے یہ الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے، جب عرب جماعت ’’جوائنٹ لسٹ‘‘ کے سربراہ یوسف جبارین نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن کی قیادت میں بننے والی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تو تیار ہیں، لیکن وہ اس طرح کے اتحاد میں براہ راست شامل ہونے کے حق میں نہیں، جس میں نیتن یاہو بھی شامل ہو۔
یوسف جبارین کا مزید کہنا تھا ’’موجودہ سیاسی حالات میں، خاص طور پر غزہ میں جاری جنگ اور مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کی تعمیر کے پیشِ نظر، ہم اسرائیلی حکومتی اتحاد کا حصہ بننے کا کوئی امکان نہیں دیکھتے‘‘۔ یعنی ایسی مخلوط حکومت جو نیتن یاہو اور اس کے مخالف گاڈی آئزنکوٹ دونوں کے اتحاد کو ملا کر بنائی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اسرائیلی عوام نے نئی قیادت کے لیے ووٹ دیا ہے اور جو کوئی بھی نیتن یاہو کی اس خوں ریز حکومت کا کوئی ٹھوس اور حقیقی متبادل پیش کرنا چاہتا ہے، اسے ہم سے بات کرنی ہوگی‘‘۔
یوسف جبارین کا یہ بیان دوسری بڑی عرب جماعت ’’راعم‘‘ کے مرکزی رہنما یوآو سیگالووچ کی باتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے ایگزٹ پولز کے نتائج سامنے آنے کے بعد کہا تھا کہ ان کی اسلام پسند جماعت اگلے حکومتی اتحاد کا حصہ بننا چاہتی ہے، لیکن جس کسی کو بھی وزیر اعظم نامزد کیا جائے، اسے ’’راعم‘‘ کے ووٹرز کا خیال رکھنا ہوگا۔ واضح رہے کہ جوائنٹ لسٹ کو بارہ اور راعم کو سات سیٹیں ملی ہیں۔
صہیونی اپوزیشن جماعتوں میں ’’دی ڈیموکریٹس‘‘ واحد پارٹی ہے، جس نے سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے ایک یہودی، عرب اتحاد بنانے پر زور دیا ہے۔ اس بائیں بازو کے دھڑے کے رہنما یائر گولان نے اپنے ساتھی ’’اتحاد‘‘ کے ارکان پر زور دیا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران ’’راعم‘‘ اور ’’جوائنٹ لسٹ‘‘ کے ساتھ ممکنہ شراکت داری کے خلاف کیے گئے اپنے وعدوں کو واپس لیں۔
ادھر سب سے بڑی مسلم عرب جماعت ’’جوائنٹ لسٹ‘‘ سے تعلق رکھنے والے رہنما اسامہ سعدی نے انتخابی نتائج کو غزہ، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینیوں کے نام منسوب کیا ہے۔
اس پر بھی نیتن یاہو کے تن بدن میں آگ لگ گئی ہے۔ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر فلسطینیوں کے قاتل نے اسامہ سعدی کی ایک ویڈیو اپ لوڈ کرکے لکھا ’’وہ فلسطینی عوام اور جیلوں میں قید دہشت گردوں‘‘ کی تعریف کرتے ہیں۔ ان لوگوں (گاڈی آئزنکوٹ)کے ساتھ مل کر، وہ ایک خطرناک حکومت بنانا چاہتے ہیں۔ ہمیں ایسا ہرگز نہیں ہونے دینا چاہیے‘‘۔
اس پوسٹ کے جواب میں نیتن یاہو پر صارفین نے لعن طعن کی انتہا کردی۔ ساگی ناتن نامی ایک صارف نے کمنٹ کیا ’’انتخابات ختم ہو چکے ہیں۔ تم آدھے لوگوں کو بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو گئے، لیکن باقی آدھے لوگوں کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ ایک اور حکومت آئے گی، جو تمہیں جیل بھیج دے گی‘‘۔
ایک صارف آنی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ’’جھوٹے۔ تم وہ ہو جس نے ان کے تلوے چاٹے۔ جبکہ انہوں نے، تمہارے برعکس، یہ صاف کہہ دیا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ گھٹیا انسان‘‘۔ ایک صارف یوڈش نے اپنے کمنٹ میں نیتن یاہو پر گالیوں کی بوچھاڑ کردی۔ اس صارف کا پورا ردعمل اخلاقی تقاضوں کے تحت نقل نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اس کا کچھ قابل اشاعت حصہ بیان کیا جارہا ہے۔ جس میں نتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’خدا کرے آنے والی ہزاروں نسلوں تک تمہارا نام و نشان مٹ جائے، تمہاری ملعون نسل عذاب جھیلے‘‘۔
غرض یہ کہ اس طرح کے درجنوں کمنٹس نیتن یاہو کی اس پوسٹ کے نیچے ہیں، جنہیں یقیناً اس نے خود بھی پڑھا ہوگا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تقریباً یہ تمام کمنٹس عبرانی زبان میں ہیں۔ یعنی غم و غصّے کا اظہار کرنے والے آؤٹ سائیڈر نہیں ہیں۔