برطانوی شاہی خاندان میں ساس بہو کی لڑائی کامنطقی انجام

برطانوی شاہی خاندان میں ساس بہو کی لڑائی منطقی انجام تک پہنچ گئی،ملکہ برطانیہ کوئین ایلزبتھ نے ہیری اور میگھن کو اپنی  خواہش کے مطابق علیحدہ زندگی گزارنے کی اجازت دیدی۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق شہزادہ ہیری اور خاندان کے دیگرافراد سے مشاورت کے بعد ملکہ برطانیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہیری، ان کے والد شہزادہ چارلس اور بھائی ولیم سے تعمیری تبادلہ خیال ہوا۔ ڈیوک اینڈ ڈچزکے مستقبل کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرلیا گیا۔

ملکہ نے کہا کہ وہ اور ان کاخاندان ہیری اور میگھن کی نئے جوڑے کے طورپرنئی زندگی شروع کرنے کی خواہش کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا اگرچہ ہماری خواہش تھی کہ وہ مکمل طورپرشاہی خاندان کا حصہ رہیں اوراپنی ذمے داریاں نبھائیں تاہم شاہی خاندان کا حصہ رہتے ہوئے آزاد اور خودمختاری کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے کے ان کے فیصلے کااحترام کرتے ہیں۔

نیوزایجنسی کے مطابق ملکہ کا بیان غیرمعمولی اورانتہائی حیران کن ہے جس میں ہیری اور میگھن کو روایات کے مطابق ان کے شاہی القابات کے بجائے ناموں سے پکاراگیاہے۔کینیڈا میں مقیم میگھن بھی بذریعہ ٹیلی فون اس گفتگو کا حصہ بنیں۔

واضح رہے کہ شاہی خاندان کے یہ شدید اختلافات اس وقت سامنے آئے جب 35سالہ ہیری اور ان کی 38سالہ اہلیہ میگھن مرکل نے اعلان کیا کہ وہ اپنی شاہی ذمے داریوں سے دستبردار ہورہے ہیں۔

اپنی باقی زندگی شمالی امریکا میں گزاریںگے۔شاہی جوڑے نے یہ بیان شاہی خاندان سے مشاورت کے بغیر دیا تھا جس پر رائل فیملی نے دکھ اور مایوسی کااظہارکیاتھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.