امریکہ کو ایرانی جواب کا انتظار۔ معاہدہ قریب ہونے کی رپورٹس درست نہیں،تہران
فریقین کی تازہ جھڑپوں اور امارات پر نئے حملے کے بعد حالات پھر کشیدہ
فریقین کی تازہ جھڑپوں اور امارات پر نئے حملے کے بعد حالات پھر کشیدہ
یہ انتہائی سستا اور بنیادی نوعیت کا طیارہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بنایا تھا
کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی میں ایسے ہتھیاروں کا استعمال شامل ہو سکتا ہے جو پہلے کبھی استعمال نہیں کیے گئے
کچھ ممالک نسبتاً اس کے اثرات کو بہتر طور پر سنبھالنے کی پوزیشن میں ہیں
آبنائے ہرمز بند کرنے سے عراق، قطر اور کویت کی معیشتوں پر تباہ کن اثر پڑا ،سی این این
سینٹ کام نے لانگ رینج ہائپرسونک ہتھیارمشرق وسطیٰ بھیجنے کی درخواست کردی
حکام نےاسے مشکوک قرار دے کر فلائٹ پر سوار نہیں ہونے دیا
حالات کا رخ بتاتاہے واشنگٹن کو خطے میں اپنے فوجی دستے کئی مہینوں تک مستعد رکھنے پڑیں گے
سابق صدرمحمود احمدی نژادنے الزام عائد کیا تھا کہ دونوں ملک ہارپ ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں
واشنگٹن جنگ کی دلدل سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ تہران