ایران جنگ اپ ڈیٹس: 21 اپریل سے 28 اپریل
ایران امریکہ تنازعے پر لائیو اپ ڈیٹس
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روسی صدر پیوٹن سے مصافحہ کر رہے ہیں
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے تین مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے حملے کیے ہیں۔
فوجی بیان کے مطابق ان حملوں کا ہدف حزب اللہ کے راکٹ لانچرز تھے، جنہیں رات کے وقت نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق دیئر الزہرانی، رمان اور السامیہ کے علاقوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر کارروائی کی گئی، تاہم ان حملوں میں جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے وزیرخارجہ عباس عراقچی پاکستان کے دورے میں جوہری معاملے پرکوئی بات چیت نہیں ہوگی، جوہری معاملہ ایران کی ریڈلائن میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ عباس عراقچی صرف دوطرفہ تعلقات پرتبادلہ خیال کریں گے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ امریکی فوج کے ساتھ تعاون کے شبہے میں ایک جہاز کو قبضے میں لیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق بحری جہاز نے خلاف ورزیاں کیں اور وارننگز کو نظر انداز کیا۔
گزشتہ روز پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں کارروائی کی تصاویر ایرانی میڈیا نے جاری کی تھیں۔
تصاویر میں اسرائیل سے منسلک شپنگ کمپنی کے جہاز کو تحویل میں لیے جانے کے مناظر شامل تھے۔
امریکی وزارتِ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک چینی پیٹروکیمیکل کمپنی کو بھی فہرست میں شامل کر لیا ہے، جس کا مقصد تہران کے ساتھ اس کے تجارتی روابط کو بتدریج ختم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق ہینگلی پیٹروکیمیکل (دالیان) ریفائنری کو پابندیوں میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ایران کے ساتھ اس کے معاہدے کو مرحلہ وار محدود کیا جا سکے۔ وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 40 مزید کمپنیوں اور تیل بردار جہازوں کو بھی اس فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ واشنگٹن ایرانی حکومت سے وابستہ مالی نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ہدف بنائے گا۔
ان کے مطابق ان اقدامات کے تحت تقریباً 34 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی بھی منجمد کی جا رہی ہے، جسے ایرانی مالی سرگرمیوں سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام کے مطابق امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس رافیل پرالٹا (DDG-115) نے ایک ایرانی پرچم بردار جہاز کو روک لیا، جو ایران کی بندرگاہ کی جانب روانہ تھا۔
سینٹکام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ جہاز کو اس وقت روکا گیا جب وہ امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران ایران کی بندرگاہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔
روسی میڈیا کے مطابق امریکی فضائیہ کے درجنوں طیارے مشرق وسطیٰ میں مسلسل سامان پہنچا رہے ہیں اور یہ طیارے بغیر کسی تعطل کے مشرق وسطیٰ کے ممالک آرہے ہیں۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ آلات کس قسم کے ہیں اور کس مقصد کیلئے لائے گئے ہیں

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لینے اور علاقائی صورتحال پر مشاورت کے لیے دارالحکومت آئے ہیں۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دورے کے دوران عباس عراقچی پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں خطے کی تازہ صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال ہوگا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عباس عراقچی جمعہ کی شب سے اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کا دورہ کریں گے، جہاں وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان، عمان اور روسی حکام سے مشاورت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی متوقع ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وفد پاکستان آمد کے دوران ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرے گا، تاہم ایرانی ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کے دوروں کا مقصد شراکت دار ممالک کے ساتھ قریبی روابط کو مضبوط بنانا اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق اب تک اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں کے ایجنڈے میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات شامل نہیں ہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستانی حکام کو جنگ کے خاتمے سے متعلق ایران کے مؤقف سے آگاہ کرنا ہے۔