ایران جنگ اپ ڈیٹس: 21 اپریل سے 28 اپریل
ایران امریکہ تنازعے پر لائیو اپ ڈیٹس
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روسی صدر پیوٹن سے مصافحہ کر رہے ہیں
واشنگتن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کے گراف میں غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
حالیہ سروے رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے متعلق عوامی منظوری کم ہو کر محض 33 فیصد رہ گئی ہے۔’’فاکس نیوز ‘‘کے مطابق سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ 67 فیصد امریکیوں نے اب تک کے صدارتی اقدامات اور پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عوام کی ایک بڑی اکثریت صدر کے حالیہ فیصلوں کو پسند نہیں کر رہی۔
یروشلم: اسرائیلی فوج، داخلی انٹیلیجنس ایجنسی ‘شین بیت’ اور پولیس نے ایک مشترکہ کارروائی کے بعد فضائیہ کے دو ٹیکنیشنز کو گرفتار کر کے ان پر جاسوسی کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کر دی ہے۔
دونوں اہلکار اسرائیلی فضائیہ میں بطور ٹیکنیشن خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کا تعلق مبینہ طور پر ‘تیل نوف’ ایئربیس سے ہے۔
ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایرانی ایجنٹ کو جنگی طیاروں کے سسٹمز سے متعلق تربیتی مواد، انجنوں کے خاکے اور فوجی تنصیبات کی تصاویر فراہم کیں۔
ان اہلکاروں کو مبینہ طور پر اسرائیلی وزیرِ داخلہ ایتمار بن گویر اور سابق آرمی چیف ہرزی ہالیوی کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کا کام بھی سونپا گیا تھا۔
تفتیش کے مطابق، ان اہلکاروں نے ڈیجیٹل کرنسی اور نقدی کی صورت میں ایرانی ہینڈلرز سے بھاری رقوم وصول کیں۔
شین بیت کے مطابق ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے شروع میں ایرانیوں کے ساتھ رابطہ اس وقت توڑ دیا تھا جب انہیں ہتھیاروں سے متعلق خطرناک مشنز دیے گئے۔ تاہم، بعد میں مالی لالچ میں آ کر ان اہلکاروں نے خود دوبارہ ایرانی ایجنٹوں سے رابطہ بحال کرنے کی کوشش کی۔
اسرائیلی حکام نے اس واقعے کو سیکیورٹی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو بھرتی کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔
فروری 2026 کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں درجنوں اسرائیلیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
اسرائیلی دفاعی اداروں نے اپنے تمام اہلکاروں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ نامعلوم غیر ملکی عناصر سے رابطہ کرنے سے گریز کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔
رملہ: اسرائیلی فوج و آبادکاروں نے رام اللّٰہ کے قریب اسکول میں گھس کر طلبہ پر فائرنگ کردی، جس سے ایک طالب علم اور استاد شہید ہوگئے۔
ایرانی میڈیا نے مغربی کنارے میں رام اللہ کے المغیز سیکنڈری اسکول پر مسلح آبادکاروں کے فائرنگ کرنے کی ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ مل کر آبادکاروں نے کلاس رومز میں داخل ہو کر فائرنگ اور ایک بچے کو شہید کردیا۔
Newly released footage captures the moment Israeli troops stormed the Al-Mughayyir Secondary School, opening fire at students inside their classrooms and killing a child, Aws Al-Nasaan, earlier this week.
Follow Press TV on Telegram: https://t.co/LWoNSpkc2J pic.twitter.com/jvxLOZoudO
— Press TV 🔻 (@PressTV) April 23, 2026
حملے کے نتیجے میں نویں جماعت کا 14 سالہ طالب علم اوس حمدی النعسان اور 32 سالہ نوجوان جہاد مرزوق ابو نعیم شہید ہو گئے جبکہ تین دیگر فلسطینیوں کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
حمدی النعسان کے خاندان کے لیے یہ پہلا صدمہ نہیں تھا۔ اس کی دادی رہاب النعسان کے مطابق ان کے والد حمدی النعسان بھی 2019 میں آبادکاروں کے ہاتھوں مارے گئے تھے، اور کل اس کا بیٹا بھی شہید ہو گیا۔
🚨 9th grade student Aws Hamdi Naasan was shot and killed today by #IsraeliOccupation colonial settlers during an attack on the village of al-Mughayyir near #Ramallah.
🔴 Aws was a student at al-Mughayyir Boys’ Secondary School in Birzeit Education Directorate.#PalEduMin 🇵🇸 pic.twitter.com/XudhmBZNdX— Ministry of Education and Higher Education (@PalestineMoE) April 21, 2026
عینی شاہدین اور اسکول انتظامیہ کے مطابق واقعے کے وقت طلبہ ماہانہ ٹیسٹ دے رہے تھے کہ اچانک مسلح آبادکار اسکول کی جانب بڑھے اور اسکول پر فائرنگ شروع کر دی۔ شدید فائرنگ سے طلبہ اور اساتذہ میں خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے بعد بچے کلاس رومز کے اندر زمین پر بیٹھ گئے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے کے 5 لاکھ سے زائد آبادکاروں میں سے کئی اسرائیلی ریزرو فوجی ہیں، جو بعض اوقات ڈیوٹی سے ہٹ کر بھی فوجی وردی پہنتے ہیں۔
وشنگٹن: امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر ایک نئی پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو اس بات کا تعین کرنے میں ’بہت مشکل پیش آ رہی ہے کہ ان کا لیڈر کون ہے‘۔
ٹرمپ نے لکھا، ’انھیں واقعی نہیں معلوم!‘ اور دعویٰ کیا کہ ملک میں ’سخت گیروں‘ اور ’اعتدال پسند‘ دھڑوں کے درمیان اندرونی اختلافات جاری ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز پر ’مکمل کنٹرول‘ حاصل ہے اور امریکی منظوری کے بغیر کوئی جہاز نہ داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی روانہ ہو سکتا ہے، یہ بات انھوں نے اس پوسٹ کے چند منٹ بعد کہی جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے بحریہ کو ایران کے کسی بھی ایسے جہاز پر فائر کرنے کا حکم دیا ہے جو بارودی سرنگیں بچھا رہا ہو۔
جکارتا: انڈونیشیا کے وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ملک آبنائے ملاکا پر کسی قسم کا ٹول عائد نہیں کرے گا، اس طرح ان خبروں کی تردید کر دی گئی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ انڈونیشیا، ایران کی طرح آبنائے ہرمز میں اختیار کیے گئے اقدام کی پیروی کر سکتا ہے۔
یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اہم بحری گزرگاہوں پر کنٹرول اور ان سے متعلق مالیاتی اقدامات پر بحث جاری ہے۔ اس سے قبل انڈونیشیا کے بعض حکام کی جانب سے مختصر طور پر ایسی تجاویز زیر غور آنے کی اطلاعات تھیں، تاہم بعد ازاں انہیں غیر عملی اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث مسترد کر دیا گیا۔
انڈونیشیا نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ آبنائے ملاکا بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے کھلی اور بلا معاوضہ گزرگاہ رہے گی، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
واشنگٹن:امریکی بحریہ نے بحرِ ہند میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی تیل کی ترسیل میں مصروف ایک ‘سٹیٹ لیس’ (بغیر ریاست کی شناخت والے) بحری جہاز کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری کردہ بیان کے مطابق، امریکی افواج نے رات گئے انڈو پیسیفک کمانڈ کی حدود میں ایک ‘میری ٹائم انٹرڈکشن’ آپریشن کیا۔ اس کارروائی کے دوران ‘M/T Majestic X’ نامی بحری جہاز کو روکا گیا اور اس پر بورڈنگ کی گئی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ بحری جہاز پابندیوں کا شکار تھا اور اس پر ایران سے لدا ہوا تیل موجود تھا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ جہاز کسی بھی ریاست کی نمائندگی نہیں کر رہا تھا (Stateless) اور امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ کے ذمہ دار علاقوں میں سرگرم تھا۔
امریکی محکمہ جنگ نے اپنے بیان میں عزم ظاہر کیا ہے کہ ہم غیر قانونی نیٹ ورکس کو توڑنے اور ایران کو مادی مدد فراہم کرنے والے جہازوں کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر بحری قوانین کا نفاذ جاری رکھیں گے، چاہے وہ کہیں بھی کام کر رہے ہوں۔
امریکی حکام کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی سمندروں کو پابندیوں کے شکار عناصر بطور ڈھال استعمال نہیں کر سکتے۔ محکمہ جنگ غیر قانونی عناصر اور ان کے بحری جہازوں کو سمندری حدود میں نقل و حرکت کی آزادی سے روکنے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا رہے گا۔

حالیہ برسوں میں پہلی بار اسرائیل سے درجنوں آباد کار گولان کی پہاڑیوں پر شامی علاقے میں داخل ہوگئے ہیں جہاں انہوں نے شامی علاقے میں آبادی قائم کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ عرب ٹی وی الجزیرہ کے مطابق یہ آباد کار دروز کے گاؤں خدیر میں آبادی قائم کرنے کیلئے اسرائیلی حکومت سے اجازت مانگ رہے ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل چھ ماہ تک جاری رہ سکتا ہے، اور غالب امکان ہے کہ یہ کارروائی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے بعد ہی شروع کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان سرنگوں کو ایران کی جانب سے بچھایا گیا ہے۔
پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کو ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بند کمرے میں بریفنگ دیتے ہوئے یہ تفصیلات فراہم کیں۔
دو عہدیداروں کے مطابق مجوزہ ٹائم لائن پر ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے ارکان نے مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تاخیر سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ ممکنہ امن معاہدے کے بعد بھی عالمی سطح پر ایندھن اور تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حکام نے بتایا کہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایران نے ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے اطراف میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔ یہ گزرگاہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم تصور کی جاتی ہے۔
ایک سینئر عہدیدار نے مزید بتایا کہ بعض سرنگیں جی پی ایس ٹیکنالوجی کے ذریعے دور سے نصب کی گئیں، جس کے باعث ان کی بروقت نشاندہی مشکل ہو گئی۔ حکام کے مطابق کچھ دیگر سرنگیں ایرانی افواج نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بھی بچھائی ہیں۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کے 3 ہزار کنٹینرز کراچی بندرگاہ پر پھنس گئے ہیں، یہ کنٹینرز دوسرے ملکوں سے ایران جارہےتھے، جنہیں ٹرانس شپمنٹ کیلئے کراچی اتارا گیا تھا،لیکن اس دوران امریکہ نے ناکہ بندی کردی۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ کنٹینرز اصل میں ٹرانس شپمنٹ کے ذریعے ایران بھیجے جا رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان کنٹینرز کی ایران منتقلی کے لیے ایک ممکنہ زمینی راستے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت پاکستانی ٹرک انہیں سرحد تک لے جائیں گے اور وہاں سے ایرانی ٹرانسپورٹ کے ذریعے انہیں اندرونِ ملک منتقل کیا جائے گا۔ تاہم اس حوالے سے حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اس کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک اچھی خبر سے مجھے ابھی آگاہ کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں سزا پانے والی 8 خواتین کی آج موت کی سزا روک دی گئی، ان میں سے چار خواتین کو فوری رہا کر دیا جائے گا۔
https://t.co/GGwbAtAWmZ pic.twitter.com/3suq6gUw6s
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) April 22, 2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 4 خواتین کو ایک ماہ قید کی سزا سنائی جائے گی، ایران اور ان کی قیادت کو میری درخواست کا احترام کرنے پر سراہتا ہوں۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ مذاکرات سے پہلے ان خواتین کو رہا کیا جائے۔
تہران: ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی ہے تاہم واضح کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ‘ضروری اقدامات’ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران فروری میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
صحافیوں کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر تبصرہ کرنے کے سوال پر، جس میں انہوں نے پاکستانی ثالثوں کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا، اسماعیل بقائی نے براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ترجمان نے ان الفاظ پر زور دیا کہ ہم امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی تہران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کر رہا ہے۔
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف نے اب سے کُچھ دیر قبل اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’مکمل جنگ بندی اسی صورت میں بامعنی ہو سکتی ہے جب اسے سمندری ناکہ بندی اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے جیسے اقدامات سے پامال نہ کیا جائے اور تمام محاذوں پر ’صیہونی جارحیت‘ کو روکا جائے۔
اُن کا ایکس پر جاری اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ایسی صریح خلاف ورزیوں کی موجودگی میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ممکن نہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے اپنے بیان کے آخر پر کہا کہ فوجی جارحیت کے ذریعے اپنے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے اور نہ ہی دھونس سے یہ ممکن ہوگا۔
انھوں نے کہاکہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنا ہے۔
ایتھنز: یونان کے وزیرِ خارجہ کے مطابق یونانی مال بردار جہاز ایپامینونڈاس کو پاسداران انقلاب کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ایران نے اسے حراست میں لیا ہے۔
سی این این سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جہاز پر حملہ کیا گیا اور اسے ’شدید نقصان‘ پہنچا ہے۔ یونانی میڈیا کے مطابق شپنگ کی وزارت نے جہاز کو حراست میں لیے جانے کی تردید کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ یونان کے مال بردار جہاز پر حملہ ہوا۔ تاہم میں اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتا کہ اسے ایرانیوں نے تحویل میں لیا ہے۔‘
اس سے قبل پاسداران انقلاب نے کہا تھا کہ ایپامینونڈاس اور ایم ایس سی فرانسسکا کو ’تحویل میں لے لیا گیا۔
پیرس: فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ہاتھوں زخمی ہونے والا فرانسیسی امن دستے کا دوسرا اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’کارپورل اینیسیٹ جیرارڈن کو گذشتہ روز وطن واپس بھیجا گیا تھا اور آج صبح وہ دم توڑ گئے۔‘
سنیچر کے روز جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے خدمات انجام دینے والے فرانسیسی اہلکار اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب گشت کے دوران ان پر فائرنگ کی گئی۔
میکخواں نے حملے کا الزام حزب اللہ پر لگایا ہے، تاہم ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم نے واقعے سے ’کسی بھی قسم کے تعلق‘ سے انکار کیا ہے۔
امن دستے کے دو مزید اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
تل ابیب: لبنان نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی میں ایک ماہ توسیع کی کوششیں شروع کردی ہیں۔
اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق لبنان نے اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ بندی میں ایک ماہ کی توسیع کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے واشنگٹن میں اہم مذاکرات کل متوقع ہیں۔
ایک لبنانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ لبنان واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران جنگ بندی میں ایک ماہ کی توسیع کی باضابطہ درخواست کرے گا۔
لبنان نہ صرف جنگ بندی کی مدت بڑھانے کا مطالبہ کرے گا بلکہ ان علاقوں میں اسرائیلی بمباری اور تباہی روکنے پر بھی زور دے گا جہاں اسرائیلی افواج موجود ہیں۔ اس کے علاوہ جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی یقین دہانی بھی مانگی جائے گی۔
دوسری جانب لبنانی صدر جوزف عون نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے رابطے جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی جنگ بندی اتوار کو ختم ہونے والی ہے۔
امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات میں وزیر خارجہ مارکو روبیو کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ خطے میں کشیدگی کے پیش نظر یہ مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں، جہاں فریقین جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے امکانات پر غور کریں گے۔
واشنگٹن: امریکی میڈیا نے وائٹ ہاؤس حکام کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی غیرمعینہ مدت کیلیے نہیں صرف 3 سے 5 دن کےلیے کی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا ایران کو تجویز پیش کرنے کے لیے محدود وقت دینے کا منصوبہ ہے۔ٹرمپ ڈیل کو جلد سے جلد فائنل کرنا چاہتےہیں۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ڈیڈ لائن کا پریشر ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور کرے گا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےگزشتہ شب وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روکنے کا اعلان کیا ۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ پاکستانی قیادت نے ہم سے کہاکہ ایران پر حملہ نہ کریں، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہم سے ایرانی قیادت کی متفقہ تجاویز آنے تک حملے روکنے کا کہا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا، اس لیے جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جائے گی جب تک کہ ایران کی تجویز پیش نہیں کی جاتی۔
تہران: ایرانی صدر کے دفتر کے ڈپٹی برائے مواصلات، مہدی طباطبائی نے ایرانی قیادت کے درمیان اختلافات کی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں دشمن کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
یہ بیان امریکی صدر کے اس دعوے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کو “منقسم” قرار دیتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع کی بات کی تھی تاکہ ایرانی قیادت ایک متفقہ تجویز کے ساتھ سامنے آ سکے۔
مہدی طباطبائی نے امریکی صدر کا نام لیے بغیر کہا کہ “دشمن” سیاسی پروپیگنڈے میں مصروف ہے، جبکہ حقیقت میں ایرانی قیادت کے درمیان اتحاد “بے مثال اور مثالی” ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (X) پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ جھوٹ گھڑنے کے بجائے انہیں (عالمی طاقتوں کو) وعدہ خلافی، دھونس اور فریب بند کرنا چاہیے۔ انصاف، وقار اور معقولیت کی بنیاد پر مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔
یروشلم : اسرائیلی فوج نے شام کی سرحد پر ایک بڑی دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے درجنوں صیہونی آباد کاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔
اسرائیلی عسکری ترجمان کے مطابق تقریباً 40 آباد کاروں نے سرحد عبور کر کے شام کے اندر فوجی کنٹرول والے بفر زون میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
رپورٹس کے مطابق یہ شہری سرحد پر جمع ہوئے اور کئی سو میٹر تک شامی علاقے (بفر زون) کے اندر گھس گئے۔ اسرائیلی فوج نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان افراد کو واپس اسرائیلی حدود میں دھکیل دیا، جس کے بعد انہیں پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین مجرمانہ فعل قرار دیا ہے جس سے فوج اور شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔
سرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ ان دراندازوں کا تعلق دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم ’پائنیئرز آف باشان‘ سے ہے۔ یہ گروہ شام اور لبنان کے علاقوں میں یہودی بستیاں قائم کرنے کا حامی ہے۔
بیروت: لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان کے گاؤں ال تری میں کار پر اسرائیلی حملے سے دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
’حزب اللہ کی جاری دہشت گردی کی کارروائیوں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے گذشتہ روز اسرائیلی فوج نے رہائیشیوں کو انتباہ جاری کیا تھا کہ وہ دریائے لیطانی سے دور رہیں۔
16 اپریل کو لبنان اور اسرائیل میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس نے 10 روز تک جاری رہنا ہے۔ جمعرات کے روز واشنگٹن سفارتی سطح کے مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔
حزب اللہ اور اسرائیل دونوں نے ہی ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے ہیں۔ اس سے پہلے اسرائیلی فوج نے کہا کہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز پر حملہ کیا تھا۔
بیروت: لبنان کے وزیر اطلاعات پال مورکوس نے جنوبی قصبے الطرى میں اسرائیلی افواج کی جانب سے صحافیوں اور فوٹوگرافرز کے مبینہ محاصرے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس صورتحال پر اقوام متحدہ کے امن مشن (UNIFIL) اور لبنانی فوج کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
اسرائیلی حملوں کے بعد الطرى کے علاقے میں کوریج کے لیے موجود میڈیا نمائندوں کو محاصرے میں لیا گیا۔
وزیر اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ صحافیوں کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے تحفظ اور میڈیا کے کام کرنے کی آزادی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ میڈیا ورکرز کی زندگیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا بین الاقوامی قوانین کے تحت لازمی ہے، اور ہم اس حوالے سے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
ایرانی فوج نے عمان کے قریب ایک مال بردار بحری جہازپرگن بوٹ سے فائرنگ کی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق کنٹینر شپ نے ایرانی مسلح افواج کی وارننگز کو نظر انداز کر دیا تھا۔اس سے پہلے، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے بتایا تھا کہ اسے ایک رپورٹ ملی ہے جس میں سٹریٹ آف ہرمز کے قریب ایک کنٹینر شپ پر گن بوٹ نے فائرنگ کی، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ واقعہ عمان سے 15 بحری میل شمال مشرق میں پیش آیا۔ ٹینکر کے کیپٹن نے رپورٹ کیا کہ گن بوٹ نے ریڈیو چیلنج جاری کیے بغیر فائرنگ شروع کر دی۔لیکن ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ جہاز نے ایرانی مسلح افواج کی وارننگز کو نظر انداز کر دیا تھا اور اس پر فائرنگ کی گئی جس سے جہاز کو سنگین نقصان پہنچا۔