ایران جنگ اپ ڈیٹس: 21 اپریل سے 28 اپریل
ایران امریکہ تنازعے پر لائیو اپ ڈیٹس
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روسی صدر پیوٹن سے مصافحہ کر رہے ہیں
برلن: جرمنی نے اسپین کی نیٹو میں رکنیت کو لاحق کسی بھی قسم کے خطرات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اتحاد میں اسپین کی حیثیت بالکل مستحکم ہے۔
یہ ردعمل رائٹرز کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پینٹاگون کی ایک ای میل میں واشنگٹن کی جانب سے اسپین کو اتحاد سے معطل کرنے کے آپشن پر غور کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
برلن میں پریس کانفرنس کے دوران جرمن حکومت کے ترجمان نے ان رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسپین کی رکنیت کے حوالے سے کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔
ترجمان کا کہنا تھا اسپین نیٹو کا مستقل رکن ہے اور مجھے ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آتی جس کی بنیاد پر اس میں کوئی تبدیلی کی جائے۔
واضح رہے کہ پینٹاگون کی مبینہ ای میل کے منظرِ عام پر آنے کے بعد بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں، تاہم جرمنی کے اس حالیہ بیان نے ان قیاس آرائیوں کو دم توڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اسپین کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی مختصر ٹیم کے ساتھ آج رات اسلام آباد آمد متوقع ہے- حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستانی مصالحتی ٹیم سے اہم بات چیت اور گفتگوکی جائے گی جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد امن مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ ممکن بنانے پر غور ہوگا-
امریکہ کی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیم اسلام آباد میں پہلے سے موجود ہے –
اسرائیلی فوج کے مطابق ملک کے شمالی علاقے شلوہوت کی طرف صبح کے وقت “کئی راکٹ” فائر کیے گئے۔
فوج کا کہنا ہے کہ جن مقامات سے یہ راکٹ داغے گئے تھے، ان میں سے ایک لانچر کو چند منٹ کے اندر نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک اور لانچر جو “لوڈ اور فائر کے لیے تیار” تھا، اسے بھی اسرائیلی فورسز نے تباہ کر دیا۔

زیروپوائنٹ سے آگے جانا مشکل- جمعہ کو شہر کھلنے کی سوشل میڈیا اطلاعات غلط نکلیں
کفایت شعاری پالیسی کے تحت جمعہ کو ورک فرام ہوم کی وجہ سے نیا نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا۔
ایران اور امریکہ آبنائے ہرمز اور اس اہم آبی راستے میں اپنی ناکہ بندیوں کے ذریعے عالمی ایندھن کی ترسیل پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی افواج نے بحرِ ہند میں ایک جہاز پر کارروائی کرتے ہوئے اسے قبضے میں لے لیا، جو ایرانی تیل منتقل کر رہا تھا۔
لبنان میں کشیدگی برقرار ہے جہاں اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے تین ارکان کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کے ارکان نے ایک اسرائیلی فوجی طیارے پر زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل فائر کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد کارروائی کی گئی۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں متعدد حملے کر چکی ہیں، جن میں خواتین اور بچوں سمیت کئی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کی جانب سے کیے گئے حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس کی فضائیہ نے لبنان سے داغے گئے کئی گولوں کو روک لیا اس دوران شٹولا کے علاقے میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔