ایران جنگ اپ ڈیٹس: 21 اپریل سے 28 اپریل
ایران امریکہ تنازعے پر لائیو اپ ڈیٹس
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روسی صدر پیوٹن سے مصافحہ کر رہے ہیں
34 ایرانی بحری ٹینکرزنے ناکہ بندی ناکام بناکر آبنائے ہرمز عبورکرلی۔ ان میں ایرانی تیل لے جانے والے کئی جہاز بھی شامل ہیں۔جریدہ ’’فنانشل ٹائمز‘‘کے مطابق، امریکہ کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 34 بحری ٹینکرز، جن کے روابط ایران سے ہیں، اس ناکہ بندی کو ناکام بنا کر گزرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
واشنگٹن نے 13 اپریل کو اس ناکہ بندی کا نفاذ شروع کیا تھا، جس کا مقصد ایران کے ساحلی حدود میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں کو روکنا تھا۔ 16 اپریل تک ان پابندیوں کا دائرہ بڑھا کر کھلے سمندر میں موجود کسی بھی ایرانی جہاز اور ان تمام بحری جہازوں تک پھیلا دیا گیا جو ایران کی جنگی کوششوں میں مددگار ثابت ہونے والا سامان لے جا رہے تھے۔
اب تک امریکی افواج نے خلیج عمان میں ایک کنٹینر بردار جہاز قبضے میں لیا ہے اور بحر ہند و بحر الکاہل (انڈو پیسیفک) کے علاقے میں ایک پابندی زدہ ٹینکر پر چھاپہ مارا ہے۔منگل کے روز امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بتایا تھاکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے 28 بحری جہازوں کو واپس مڑنے یا لوٹ جانے کا حکم دیا ہے۔اسی دن سی این بی سی (CNBC) کو ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ناکہ بندی ایک زبردست کامیابی رہی ہے، جب تک واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی حتمی معاہدےتک نہیں پہنچ جاتا، وہ آبنائے ہرمز پر امریکی پابندیاں ختم نہیں کریں گے۔
ان کوششوں کے باوجود درجنوں جہاز ناکہ بندی سے بچنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ایران سے منسلک کم از کم 19 ٹینکرز خلیج سے نکلنے میں کامیاب ہوئے، 15 دیگر بحیرہ عرب سے ایران کی جانب خلیج میں داخل ہوئے۔روانہ ہونے والے جہازوں میں سے کم از کم چھ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایرانی خام تیل لے جا رہے تھے، جس کی کل مقدار11 ملین بیرل تھی۔ چونکہ ایرانی تیل عام طور پر برینٹ کروڈ کی قیمتوں سے کم پر فروخت ہوتا ہے، اس لیے اگر 10 ڈالر فی بیرل رعایت کا حساب لگایا جائے تو اس کھیپ کی تخمینی مالیت تقریباً 91کروڑ ڈالر بنتی ہے۔
بارہ ممتاز برطانوی جامعات پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک نجی سیکورٹی کمپنی کو، جس کے مبینہ طور پر فوجی انٹیلی جنس سے تعلقات ہیں، فلسطین کے حق میں ہونے والے طلبہ احتجاج کی نگرانی کے لیے تعینات کیا۔
رپورٹ کے مطابق طلبہ کو ان کی لاعلمی میں سوشل میڈیا سرگرمیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور ان کی نگرانی کی گئی، جس کے بعد برطانیہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نگرانی اور اظہارِ رائے کی آزادی پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق دریائے لیتانی کے جنوب میں واقع دیہات میں بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث رات بھر اور صبح کے وقت شہریوں کی نقل مکانی دیکھی گئی، جس میں رہائشی شمال کی جانب صیدا اور بیروت کی طرف منتقل ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق اس نقل مکانی کی وجہ کئی علاقوں میں بنیادی سہولیات، خصوصاً بجلی اور پانی کی مکمل عدم دستیابی بتائی گئی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کی کوششیں تاحال ممکن نہیں ہو سکیں، جبکہ متعدد گھر یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا اسرائیلی حملوں کے باعث ناقابلِ رہائش بن چکے ہیں۔
ایران کی سول ڈیفنس اتھارٹی کے ایک سینئر عہدیدار کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مہدی فرید جو سرکاری سول ڈیفنس ادارے میں انتظامی عہدے پر فائز تھا، کو سپریم کورٹ کی جانب سے سزا برقرار رکھنے کے بعد پھانسی دے دی گئی۔
میزان نیوز کے مطابق تحقیقات کے دوران مہدی فرید نے اعتراف کیا کہ اس نے اسرائیلی انٹیلی جنس کو حساس معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی تھی، جن میں تنظیمی ڈھانچے، اندرونی عمارتوں کے نقشے، دفاعی تنصیبات کی سیکورٹی تفصیلات اور اہلکاروں کے ریکارڈ شامل تھے۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے اطلاع دی ہے کہ اسے عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 15 ناٹیکل میل (27 کلومیٹر) کے فاصلے پر ایک کنٹینر جہاز پر حملے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جہاز کے کپتان نے بتایا کہ ایک ایرانی انقلابی گارڈز کی مسلح کشتی جہاز کے قریب آئی اور بعد ازاں اس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج کو شدید نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں کسی قسم کی آگ یا ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی جبکہ تمام عملہ محفوظ ہے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے خطے میں کشیدگی اور تصادم کو روکنے کے لیے حالیہ جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مطلوبہ سکون کے حصول کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
العربیہ کے مطابق صدر السیسی نے قاہرہ میں فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سفارتی راستے کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پرامن حل تک پہنچنے کے مواقع کی حمایت کی جا سکے اور تصادم کے دائرے کی وسعت کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
فلسطینی ہلالِ احمر نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے قریب اسرائیلی آبادکاروں کی فائرنگ سے ایک 13 سالہ بچے سمیت دو افراد شہید ہوگئے۔
العربیہ کے مطابق رام اللہ کے قریب المغایر گاؤں میں آبادکاروں کے حملے کے دوران شہید ہونے اور چار دیگر زخمی ہوئے۔ہلالِ احمر نےبتایا کہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میری جانب سے ذاتی طور پر اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے، میں صدر ٹرمپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی ہماری درخواست کو فیاضی سے قبول کیا۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ میں شہباز شریف نے مزید کہا کہ جس اعتماد اور بھروسے کا اظہار کیا گیا ہے، اس کے پیش نظر پاکستان تنازع کے مذاکراتی تصفیے کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔
وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ میں تہہ دل سے پرامید ہوں کہ دونوں فریق جنگ بندی کی پاسداری جاری رکھیں گے اور اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے ایک جامع ‘امن معاہدے’ تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی حیثیت نہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ترجمہ شدہ ریمارکس میں کہا کہ ہارنے والا فریق اپنی شرائط مسلط نہیں کر سکتا۔ محاصرے کا جاری رہنا بمباری سے مختلف نہیں اور اس کا جواب فوجی کارروائی سے ہی دیا جانا چاہیے۔
مہدی محمدی نے کہاکہ مزید یہ کہ، ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کی مدت میں اضافہ یقینی طور پر اچانک حملے کے لیے وقت حاصل کرنے کا ایک حربہ ہے۔ اب ایران کے لیے پہل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
واشنگٹن: امریکا نے ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد پر نئی پابندیاں لگادیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق 14 افراد اور کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔
ایک بیان میں محکمہ خزانہ نے کہا کہ ایران کے ہتھیاروں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے اہداف میں ایرانی طیارے بھی شامل ہیں جبکہ ایران، ترکیہ اور یو اے ای میں موجود عناصر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
نیو یارک: اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے کچھ دیر قبل مجھ سمیت چند صحافیوں کو بتایا ہے کہ تہران کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی یہ ہوتا ہے، مذاکرات کے اگلے دور کا انعقاد اسلام آباد میں ہو گا۔
میں نے ان سے جے ڈی وینس کا دورہ ’موخر‘ کیے جانے کے متعلق سوال کیا، تاہم انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے ان کے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔ انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کی شرط یہ ہے کہ بات چیت کے دوبارہ آغاز سے پہلے امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ سیاسی حل چاہتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے، اور اگر وہ جنگ چاہتا ہے تو ایران اس کے لیے بھی تیار ہے۔
واشنگٹن: پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی افواج نے انڈوپیسفک کمانڈ کی ذمہ داری کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے پابندی کا شکار آئل ٹینکر ’ایم ٹی ٹیفانی‘ کو قبضے میں لے لیا، امریکی افواج نے کارروائی بغیر کسی مزاحمت کے مکمل کی۔
پینٹاگون نے مزید کہا امریکا دنیا بھر میں ایسے سمندری آپریشن جاری رکھے گا تاکے ایسے غیر قانونی نیٹ ورکس کو روکا جا سکے جو ایران کو کسی قسم کی مدد فراہم کر رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا بین الاقوامی سمندر ایسے پابندیوں والے جہازوں کیلئے محفوظ جگہ نہیں ہے، امریکا ایسے غیر قانونی عناصر کو سمندر میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دیے گا۔
تہران / اسلام آباد: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے گرد جاری امریکی بحری ناکہ بندی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے باقاعدہ ‘اعلانِ جنگ’ قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرنا جنگی کارروائی ہے، جو کہ موجودہ جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی جہاز کو نشانہ بنانا اور اس کے عملے کو یرغمال بنانا اس سے بھی بڑی خلاف ورزی ہے۔
عباس عراقچی نے واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران جانتا ہے کہ پابندیوں کو کیسے ختم کرنا ہے، اپنے مفادات کا دفاع کس طرح کرنا ہے اور غنڈہ گردی کے خلاف مزاحمت کیسے کرنی ہے۔
صنعا: یمن کے حوثی باغی گروپ کے سربراہ عبدالمالک الحوثی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی برقرار بھی رہتی ہے، تب بھی خطے میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ موجود ہے۔
ایک ٹیلی ویژن خطاب میں عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ حالیہ “نازک” جنگ بندی اپنے اختتام کے قریب ہے اور خطے میں حالات کے دوبارہ بگڑنے کا امکان کافی زیادہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ لڑائی کے مزید راؤنڈ آنے والے ہیں۔ یہ دشمن کے ساتھ جاری مستقل تنازع کے درمیان محض ایک عارضی وقفہ ہے۔
حوثی سربراہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی ثالثی اور جنگ بندی کو انتہائی کمزور قرار دیتے ہوئے اسے کسی مستقل حل کے بجائے عارضی مہلت قرار دیا۔
تہران: ایران کے صدر مسعود پزیشکیان کے دفتر نے دشمن ممالک کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قوم کے صبر اور امن پسندی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، کیونکہ “تھکے ہوؤں کو آزمانا ایک فاش غلطی ہوگی۔”
صدر ایران کے ڈپٹی کمیونیکیشن آفیسر نے مہر نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایرانی قوم کا انتخاب امن اور سکون ہے، لیکن دشمنوں کی یہ توقع کہ ایران خاموش رہے گا یا ہتھیار ڈال دے گا، سراسر خام خیالی ہے۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران نے ماضی میں بھی بہادری سے اپنا دفاع کیا ہے اور اسرائیل و امریکہ کے خلاف یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ ہم نہ صرف جارحیت کرنے والے کو اس کے اقدام پر پشیمان کر دیں گے بلکہ اس کے اندر دوبارہ ایسی جرات پیدا کرنے والی بنیادوں کا بھی خاتمہ کر دیں گے۔
تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایرانی وفد کے اس ہفتے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے لیے اسلام آباد کا سفر کرنے کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
اُنھوں نے اپنی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’ہم نیک نیتی اور سنجیدگی کے احساس کے ساتھ اس گفت و شنید میں گئے تھے، لیکن ایک مذاکراتی فریق ہے جس میں سنجیدگی اور نیک نیتی کی کمی ہے، وہ بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کر رہے ہیں اور جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘
لیکن اسماعیل بقائی نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے کون سی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس پر مشاورت جاری ہے۔
تہران: ایرانی حکومت کی ایک ترجمان نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا ہے کہ ممکنہ مذاکرات کے دوران تہران نے اپنی ’انگلی ٹریگر پر رکھی ہوئی ہے‘ اور دفاعی فورسز ’مکمل تیاری‘ کی حالت میں ہیں۔
فاطمہ مہاجرانی نے اس بات کی نہ تو واضح تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی کہ آیا ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے سامنے دو حکمتِ عملیاں ہیں۔ پہلی جنگ کی حکمتِ عملی اور دوسری سفارت کاری کی حکمتِ عملی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم ’قومی مفادات پر معمولی سمجھوتہ بھی نہیں کرے گی۔‘
دوحہ: قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ قطر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔
ماجد الانصاری نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ’ہم امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔‘
’پوری دنیا ان مذاکرات کی حمایت کر رہی ہے۔ ہم بھی اس میں شامل ہیں۔ ہم پاکستان میں اپنے بھائیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔‘
ماجد الانصاری نے مزید کہا کہ تمام خلیجی ممالک روزانہ کی بنیاد پر مختلف فریقوں سے براہ راست رابطے میں ہیں۔ ’یہ ہمارے خطے کا بحران ہے۔ اسی لیے ہمارے براہ راست رابطے ہیں۔‘
آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز کے بحران کو حل کرنا کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اس بحران کو علاقائی سے بین الاقوامی بحران میں تبدیل کر دیتی ہے۔‘
امریکہ اور ایران دونوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہو گئی تو وہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی قیادت نے جنگ بندی ختم ہونےکی صورت میں ’’ نئے پتے‘‘ استعمال کرنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کاکہناہے کہ وہ میدانِ جنگ میں نئے پتے (کارڈز) دکھانے کے لیے تیار ہیں۔خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج اپنے مخالفین کی جانب سے کسی بھی نئی جارحانہ کارروائی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ، نے دھمکی دی ہے کہ اگر بدھ کی ڈیڈ لائن تک معاہدہ طے نہ پایا تو وہ دوبارہ بمباری شروع کر دیں گے۔
جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق ، ایرانی سفارت کار قالیباف کا کہناتھاکہ گزشتہ دو ہفتوں سے ہم میدان جنگ میں نئے پتے دکھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے مابین سخت سیاسی بیانات کے باوجود پاکستانی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران بھی منگل کی رات تک اپنا ایک وفد اسلام آباد بھیج دے گا تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔
امریکی سفارتی منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ کا ایک وفد امن مذاکرات کے نئے دور کے لیے پاکستان روانہ ہو گا۔ امریکی ٹیم کی قیادت متوقع طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ادھرپاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی بہت سخت کر دی گئی ہے۔ ہزاروں اہلکار تعینات ہیں اور ہوائی اڈے کی طرف جانے والے راستوں پر گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
امریکی میڈیانے کہا ہے کہ پاکستان کو اس امر کی تصدیق موصول ہوئی ہے کہ اعلیٰ مذاکرات کار، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بدھ کو علیٰ الصبح اسلام آباد پہنچیں گے؛ ان حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو یہ معلومات فراہم کیں۔ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ میڈیا کو بریفنگ دینے کے مجاز نہیں تھے۔
نہ تو امریکہ اور نہ ایران نے مذاکرات کے وقت کی عوامی سطح پر تصدیق کی ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے تردید کی ہے کہ کوئی بھی عہدیدار پہلے سے پاکستان کے دارالحکومت میں موجود ہے۔
دو علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا گیاہے کہ امریکہ اور ایران نے جنگ بندی مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کا اشارہ دیا ہے، کیونکہ دو ہفتوں سے جاری جنگ بندی کی مدت ختم ہونے والی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی کوششوں سے ہونے والے دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے کے قریب ہے۔
ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ اگر تہران سے معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی میں توسیع نہیں کی جائے گی۔
7 اپریل کو شروع ہونے والی اس جنگ بندی کے ختم ہونے کا وقت امریکہ کے حساب سے بدھ کی صبح 8 بجے ہے، تہران میں جمعرات صبح کے ساڑھے 3 بجے اور پاکستان کے وقت کے حساب سے جمعرات صبح کے 5 بجے یہ جنگ بندی ختم ہو رہی ہے۔

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران کسی دھمکی یا دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گا۔
ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’اس حقیقت کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے کہ اس قدر قدیم تہذیب رکھنے والا ملک کسی دھمکی یا دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گا۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ ایک ٹھوس، اسلامی اور مذہبی اصول ہے۔ کاش امریکہ اسے سمجھ جاتا۔
غزہ کی پٹی کے شمالی ساحل کے قریب اسرائیلی جنگی بحری جہازوں کی فائرنگ سے ایک فلسطینی خاتون شہید ہوگئی۔
الجزیرہ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ پیر کے روز غزہ بھر میں اسرائیلی حملوں میں پانچ فلسطینی شہید ہوئے۔
وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو ایران کے ساتھ کسی نقصان دہ یا یکطرفہ معاہدے کی طرف نہیں لے جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پایا تو وہ ایسا ہوگا جو خطے اور دنیا کے لیے امن، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنائے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے ماحول میں مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کصدر ٹرمپ مذاکرات کو باہمی مفاہمت کے بجائے “ہتھیار ڈالنے” کی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جو قابل قبول نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور کسی بھی قسم کی دھمکی یا دباؤ کے تحت بات چیت نہیں کرے گا۔

ایران مذاکرات کا اگلا مرحلہ تہران کے فیصلے سے مشروط ہے،جے ڈی وینس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس منگل کی صبح اسلام آباد روانہ ہونے والے ہیں، جہاں وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر مذاکرات کریں گے جس کا مقصد جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔
امریکی میڈیا نے تین نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب جنگ بندی کے خاتمے کا وقت قریب آ رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔