لائیو آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران اور امریکہ اڑ گئے اسلام آباد مذاکرات 2.0 پر بے یقینی برقرار
ایران امریکہ تنازعے پر لائیو اپ ڈیٹس
فوٹو سوشل میڈیا
-
- منگل 21 اپریل کو ایران امریکہ تنازعہ 55 ویں دن میں داخل ہو گیا۔ 14 روزہ جنگ بندی کل بدھ کو ختم ہو رہی ہے۔
-
- اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور پر بے یقینی برقرار ہے۔ ایران اب تک مذاکرات کیلئے پاکستان آنے سے انکار کر رہا ہے۔
-
- امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی تیاریوں کیلئے ابتدائی ٹیم پاکستان پہنچ چکی ہے۔

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران کسی دھمکی یا دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گا۔
ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’اس حقیقت کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے کہ اس قدر قدیم تہذیب رکھنے والا ملک کسی دھمکی یا دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گا۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ ایک ٹھوس، اسلامی اور مذہبی اصول ہے۔ کاش امریکہ اسے سمجھ جاتا۔
غزہ کی پٹی کے شمالی ساحل کے قریب اسرائیلی جنگی بحری جہازوں کی فائرنگ سے ایک فلسطینی خاتون شہید ہوگئی۔
الجزیرہ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ پیر کے روز غزہ بھر میں اسرائیلی حملوں میں پانچ فلسطینی شہید ہوئے۔
وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو ایران کے ساتھ کسی نقصان دہ یا یکطرفہ معاہدے کی طرف نہیں لے جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پایا تو وہ ایسا ہوگا جو خطے اور دنیا کے لیے امن، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنائے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے ماحول میں مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کصدر ٹرمپ مذاکرات کو باہمی مفاہمت کے بجائے “ہتھیار ڈالنے” کی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جو قابل قبول نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور کسی بھی قسم کی دھمکی یا دباؤ کے تحت بات چیت نہیں کرے گا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس منگل کی صبح اسلام آباد روانہ ہونے والے ہیں، جہاں وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر مذاکرات کریں گے جس کا مقصد جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔
امریکی میڈیا نے تین نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب جنگ بندی کے خاتمے کا وقت قریب آ رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔