لائیو پی ٹی آئی لانگ مارچ پہلے دن بنوں کرک سرحد پر- اسلام آباد میں مزید کنٹینرز طلب
حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد خیبرپختوںخوا کے وزیراعلیٰ کی قیادت میں مارچ شروع ہوگیا ہے جس نے اتوار کو بنون اور کرک کی سرحد پر پڑاؤ ڈال دیا۔
تصویر پی ٹی آئی
اہم نکات
حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد خیبرپختوںخوا کے وزیراعلیٰ کی قیادت میں مارچ شروع ہوگیا ہے جس نے اتوار کو بنون اور کرک کی سرحد پر پڑاؤ ڈال دیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سہیل آفریدی کو وارننگ دی ہے۔
لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا،رانا ثناء اللہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی گورنر خیبرپختونخوا سے اہم ملاقات، صوبے کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے آئینی کردار ادا کرنے پر اتفاق
سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور لانگ مارچ کا ارادہ چھوڑ کر قافلے سمیت واپس اپنی رہائشگاہ پہنچ گئے۔ علی امین گنڈاپور یارک ٹول پلازہ سے واپس روانہ ہوئے، ڈیرہ اسماعیل خان پہنچنے پر انہوں نے کہا کہ ہم قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے۔ انہوں نے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے گنڈی چوک پہنچنا تھا لیکن یارک ٹول پلازہ کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر جاری آڈیو بیان میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ آج جب ہم روانہ ہوئے تو ہمیں پولیس نے روک لیا اور کہا کہ آپ لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے، دفعہ 144 نافذ ہے۔ جس پر ہم نے اپنی انتظامیہ سے رابطہ کیا، وزیراعلی سیکرٹریٹ سے رابطہ کیا۔ وزیراعلی چونکہ خود لانگ مارچ میں ہیں تو ان سے ہمارا رابطہ نہیں ہوا لیکن باقی جو رابطے ہوئے تو اس میں انہوں نے ہمیں صاف کہہ دیا کہ یہ دفعہ 144 تین دن کے لیے ہے، اس کے بعد ہم وہاں پر بیٹھے رہے، انتظار کرتے رہے کہ کوئی لائحہ عمل آ جائے، کیونکہ ہمیں لائحہ عمل دیا گیا تھا کہ آپ نے بالکل قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا، پرامن رہنا ہے، کسی طرح کا تصادم نہیں کرنا اور پرامن رہنا ہے اور یہ ہدایت ہمیں وزیراعلی سے اور پارٹی کی طرف سے ہمیں آئی تھی۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ہم وہاں پہ کافی گھنٹے تک رہے، رابطے کرتے رہے، اس کے بعد رات ہوگئی اور جب کچھ جواب نہیں آیا تو چونکہ اس جگہ پہ جہاں ہمیں روکا ہوا تھا، وہ ایریا بالکل سکیورٹی کے لحاظ سے کلیئر نہیں تھا، تو یہی مشورہ ہوا کہ بجائے ہم یہاں پر رہیں اس کے بجائے نئے احکامات جب تک نہیں آتے ہم لوگ وہاں سے واپس آگئے اور اب جو بھی پارٹی کے احکامات آئیں گے ہم اس کے پابند ہیں اور انشاءاللہ تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پارٹی کے احکامات کے منتظر ہیں، ہماری تیاری مکمل ہے اور ہم اس انتظار میں رہیں گے کہ کیا احکامات آتے ہیں۔
اسلام آباد پولیس نے واضح کیا ہے کہ دارالحکومت کی تمام اہم شاہراہیں، داخلی و خارجی راستے اور ایم ٹو موٹروے اسلام آباد تا لاہور ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھلی ہیں۔
پولیس کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دوران سفر ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں۔
اکستان تحریکِ انصاف نے عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات اور علاج سمیت دیگر مطالبات کے لیے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ پہلے روز کے اختتام پر لانگ مارچ کے شرکا نے بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک پر اپنا پہلا پڑاؤ ڈال دیا ہے۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پیر سے لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز ہوگا اور یہ مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا صوابی اور پھر پشاور پہنچے گا۔
پہلے روز لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم ہر روز ایک نئے منصوبے کا اعلان کریں گے۔