لائیو ایران امریکہ جنگ کو 60 دن مکمل: ٹرمپ کیلئے مہلت ختم
ایران کیخلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ کی لائیو اپ ڈیٹس
آبنائے ہرمز۔ فائل فوٹو
اہم نکات
- ایران پر 28 فروری کو فضائی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کو 60 دن مکمل ہوگئے ہیں۔ اس دوران 7 اپریل سے پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی جس میں پاکستان کی درخواست پر ہی ٹرمپ نے توسیع کردی۔ تاہم جنگ جاری رکھنے کیلئے ٹرمپ کے پاس 60 روز کی آئینی مدت یکم مئی کو ختم ہو رہی ہے۔
- آبنائے ہرمز بند ہے۔ ایران کی جانب سے جہازوں کو بغیر اجازت گزرنے نہیں دیا جا رہا جب کہ امریکہ نے ایران سے نکلنے والے اور ایران جانے والے جہازوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس بحران کے سبب تیل کی قیمتین ایک بار پھر بڑھ رہی ہیں۔
لبنانی فوج کے مطابق ملک کے جنوبی علاقے میں امدادی کارروائیاں انجام دینے کے دوران اسرائیل کے حملے میں اس کے دو فوجی زخمی ہو گئے۔
اسرائیل سے جنگ بندی کے بعد اس نوعیت کے پہلے بیان میں لبنانی فوج نے کہا: ’گشت کرتے فوجی دستے کو اسرائیل کی جانب سے ہدف بنایا گیا، جس سے دو فوجی زخمی ہو گئے۔‘
بیان کے مطابق یہ دستہ شہری دفاع کے اہلکاروں اور دو غیر فوجی بلڈوزروں کے ہمراہ جنوبی لبنان میں شہریوں کو بچانے کا کام کر رہا تھا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
خلیجی تعاون کونسل کے رہنما سعودی شہر جدہ میں غیر معمولی اجلاس میں جمع ہوئے جہاں ایران سے بڑھتے عسکری خطرات، آبنائے ہرمز کی بحالی اور توانائی پالیسیوں پر اہم مشاورت کی گئی۔
سعودی عرب کے شہر جدہ میں خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خلیجی ممالک کی قیادت نے شرکت کی۔ ایران میں جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ خلیجی رہنما آمنے سامنے بیٹھے۔
اجلاس میں ایران کی جانب سے 28 فروری کے بعد سے خلیجی ممالک کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خطرے پر مشترکہ حکمت عملی زیر غور آئی۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی، جو تیل، گیس اور دیگر اہم مصنوعات کی عالمی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم مئی سے اوپیک تنظیم چھوڑ رہا ہے۔ امارات، جو اوپیک کا تیسرا بڑا اور دنیا کا ساتواں بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اس کی طویل مدتی معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ملک نے 2027 تک اپنی یومیہ تیل پیداوار کو 36 لاکھ بیرل سے بڑھا کر 50 لاکھ بیرل تک لے جانے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے۔
دوسری جانب قطر میں وزارتِ خارجہ نے بریفنگ کے دوران اپنے مؤقف کا اعادہ کیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدہ ناگزیر ہے۔